| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے انہیں سے کہ ان سے شطرنج کھیلنے کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ وہ باطل سے ہے اور اللہ باطل کو پسند نہیں فرماتا ۱؎ ان چاروں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں بیان فرمایا۔
شرح
۱؎ یعنی اللہ تعالیٰ شطرنج کو ناپسند کرتا ہے ایسے موقعہ پر پسند نہ فرمانے کا مطلب ہوتا ہے ناپسند کرنا۔کسی نے امام مالک سے پوچھا کہ شطرنجی آدمی کی گواہی قبول ہے یا نہیں تو فرمایا کہ جو ہمیشہ کھیلے اس کی گواہی قبول نہیں،آپ نے فرمایا کہ شطرنج حق نہیں اور"فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ"اس کی ممانعت کے متعلق اور بہت احادیث ہیں اگر یہ احادیث ضعیف بھی ہوں تب بھی تعدد اسنادکی وجہ سے حسن ہیں کہ تعداد اسناد ضعیف حدیث کو حسن کردیتی ہیں۔(مرقات)