۱؎ جیسے یہود کہ انہوں نے حضرت زکریا اور یحیی علیہما السلام بلکہ اور بہت پیغمبر کو قتل کیا یہ بدترین مخلوق ہیں۔
۲؎ قتل فی سبیل اللہ یعنی جہاد میں وہ نبی کے مقابل آئے اور نبی کے ہاتھوں مارا جائے ورنہ جسے نبی قصاص یا حد میں قتل کریں وہ اس حکم سے خارج ہے۔(مرقات)بعض صحابہ کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے قصاص یا حد میں قتل کرایا ہے ان کا تو بیڑا پار لگ گیا کہ حضور کے ہاتھوں پاک ہوکر گر گئے۔
۳؎ ماں یا باپ یا دونوں کوظلمًا قتل کرے،اگر بیٹا حاکم ہے وہ اپنے باپ کو قصاص یا حد شرعی میں قتل کرے تو وہ اس حکم سے خارج ہے۔
۴؎ اس طرح کہ نہ تو عالم اپنے علم پر عمل کرے نہ کسی سے عمل کرائے اپنا علم سینہ میں چھپاکر لے جائے،علم دین اللہ رسول کی امانت ہے لوگوں تک پہنچاؤ۔