| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم بیمار ہوئے تو آپ کی بعض بیویوں نے ایک کنیسہ کا ذکر کیا ۱؎ جسے ماریہ کہا جاتا تھا اور ام سلمہ ام حبیبہ زمین حبشہ میں پہنچی تھیں۲؎ تو ان دونوں نے اس کی خوبصورتی اور وہاں کی تصویروں کا ذکر کیا ۳؎ تو حضور نے اپنا سر اٹھایا پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان میں جب کوئی نیک آدمی مرجاتا ہے اس کی قبر پر مسجد بنالیتے ہیں۴؎ پھر اس میں یہ تصویریں بناتے ہیں یہ لوگ اللہ کی مخلوق میں بدترین ہیں ۵؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ غالبًا کنیسہ عیسائیوں کے عبادت خانہ کو کہتے ہیں اور بیعہ یہود کے عبادت خانہ کو،بعض نے اس کے برعکس کہا ہے یہ عجمی ہے،یونانی زبان میں کنیثت تھا اس سے کنیسہ بنایا گیا،یہ ذکر فرمانے والی بیوی حضرت ام سلمہ تھیں یا ام حبیبہ۔ ۲؎ یہ دونوں بیبیاں اولًا حبشہ کو ہجرت کرکے گئی تھیں وہاں کئی سال رہ کر پھر مدینہ منورہ آئیں اس لیے وہاں انہوں نے عیسائیوں کا یہ گرجا دیکھا تھا۔لفظ ماریہ دراصل ماروی تھا یعنی بے مثال گرجا۔ ۳؎ پہلے راہب عیسائیوں نے گرجوں میں اپنے نیک لوگوں کے فوٹو رکھے تھے تاکہ لوگ ان کی عبادات دیکھ کر خود عبادت میں مشغول ہوں بعد میں ان تصویروں کی پرستش شروع ہوگئی۔(مرقات)ان کے دین میں تصویر سازی حرام نہ تھی اس لیے اسلام نے تصویر سازی حرام فرمادی کہ یہ بت پرستی کی جڑ ہے۔ہم نے بعض جاہل مسلمانوں کو دیکھا کہ وہ اپنے پیروں کے فوٹوؤں کو سلام کرتے ہیں،بعض کو سجدہ کرتے بھی دیکھا گیا ہے۔ ۴؎ سارے اہل کتاب یہودی ہوں یا عیسائی ان سب کا یہ ہی طریقہ ہے کہ اپنے صالح لوگوں کی قبروں پر یا تو اس طرح عبادت خانہ بناتے ہیں کہ انکی قبر میں فرش کنیسہ میں آجاتی ہیں،ان پر کھڑے ہو کر عبادت کرتے ہیں یعنی ان کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے ہیں کہ ان کی طرف سجدے کرتے ہیں یہ دونوں کا م حرام ہیں، یہاں مسجد سے مراد سجدہ گا ہے ورنہ اہل کتاب مسجدیں نہیں بناتے ، ہمارے اسلام میں بزرگوں کی قبروں کے پاس بناتے ہیں یہ بہت ہی اچھا ہے جیسے مسجد نبوی اور عام وہ مساجد جو اولیاء اللہ کے مزارات کے قریب بنی ہوئی ہیں ان مسجدوں سے زائرین کو نماز کا آرام بھی رہتا ہے اور وہاں نماز کی قبولیت کی بھی قوی امید ہے۔ ۵؎ کہ یہ گمراہ بھی ہیں اور گمراہ گر بھی۔