۱؎ برسات میں گلی لکڑی کے بھیگنے سے چھتری کی طرح ایک گھاس اگ جاتی ہے اسے عربی میں کماۃ شحم الارض،فارسی میں سماروق اور کلاہ دبو،اردو میں کھمبی اور چتر مار کہتے ہیں۔بعض لوگ اس کی جڑیں پکا کر کھاتے ہیں۔ برسات میں عمومًا مل جاتی ہیں۔من بمعنی منت اور نعمت ہے یا مطلب یہ ہے کہ من کی مثل بغیر قیمت مل جانے والی چیز ہے۔
۲ ؎ اس کی تحقیق ان شاءاللہ کتاب الطب والرقی میں ہوگی۔اس کے پانی کا آنکھ کے لیے شفا ہونا برحق ہے مگر کسی مرض میں کیسے استعمال کیا جائے اس کی تفصیل کتاب الطب میں ہے۔
۳؎ یعنی یا تو بنی اسرائیل پر جو من اترتا تھا وہ ہی تھا جو کچھ فرق کے ساتھ اب اس شکل میں ہے یا جیسے بنی اسرائیل پر من اعلیٰ درجہ کی چیز اتری مگر بغیر محنت مشقت انہیں دی گئی ایسے ہی یہ بھی ہے۔