Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
348 - 975
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر 348
روایت ہے حضرت سعید ابن حسن سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس کے پاس تھا کہ ان کے پاس ایک شخص آیا بولا اے ابن عباس میں ایسا شخص ہوں کہ میری روزی میری ہاتھ کی کاریگری میں ہے اور میں یہ تصویریں بناتا ہوں ۲؎ تو حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ میں تم کو نہیں خبر دیتا مگر وہ جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو کوئی تصویریں بنائے تو اللہ اسے عذاب دے گا۳؎ حتی کہ اس میں روح پھونکے اور وہ اس میں کبھی نہ پھونک سکے گا تو وہ شخص بہت سخت ہانپا۴؎ اور اس کا چہرہ زرد پڑ گیا ۵؎ تو آپ نے فرمایا تجھے خرابی ہو اگر اس کے بنانے سے تو باز نہ آئے تو اس درخت کو اور ہر اس چیز کو اختیار کر جس میں جان نہیں ۶؎(بخاری)
شرح
۱؎ آپ خواجہ حسن بصری کے بھائی ہیں،حضرت زید ابن ثابت کے آزاد کردہ غلام ہیں،آپ کے والد کا نام یسار ہے،کنیت ابوالحسن،یہ ہی خواجہ حسن بصری کے والد ہیں،سعید تابعی ہیں،بصری ہیں،ثقہ ہیں،حضرت ابن عباس ابوہریرہ وغیرہم سے ملاقات ہے رضی اللہ عنہم اجمعین۔آپ سے قتادہ،عوف وغیرہم نے احادیث روایت کیں۔

۲؎  یعنی جاندار کی تصویریں بنانا میرا پیشہ ہے اس سے میرا گزارہ ہے مجھے اور کوئی کام آتا نہیں۔

۳؎  یہاں عذاب سے مراد تمہید عذاب ہے جیساکہ اگلے مضمون سے واضح ہے۔اولًا اس سے روح پھونکنے کو فرمائے گاجب وہ نہ پھونک سکے گا تو عذاب دے گا،اگر حلال سمجھ کر تصویرسازی کرتا تھا تو دائمی عذاب ورنہ بہت دراز مدت تک عذاب۔

۴؎  ربا کے معنی ہیں بلندی اور زیادتی اس لیے بلند زمین کو ربوہ  کہتے ہیں اور سود کو ربو کہا جاتا ہے۔ اب اصطلاح میں گھوڑے کی سانس پھول جانے کو ربوہ کہنے لگے جو زیادہ دوڑنے سے پھول جاتی ہے کہ اس میں سانس کی زیادتی ہوجاتی ہے جسے فارسی میں تلواسہ کہتے ہیں،اردو میں سانس چڑھ جانا لہذا اس کا ترجمہ ہانپنا نہایت موزوں ہے وہ خوفِ خدا سے ہانپنے لگا جو اسے یہ حدیث سن کر پیدا ہوا۔

۵؎  یعنی خوفِ خدا سے اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا غصہ میں چہرہ سرخ ہوجاتا ہے اور خو ف میں پیلا وہ متفکر ہوگیا کہ اب میں گزارہ کیسے کروں مجھے صرف یہ ہی ہنر آتا ہے اور یہ حرام ہے یہ فکر بھی علامت ایمان ہے۔

۶؎  یعنی درخت،پہاڑ،مکانات اور دوسری سبزیاں اور تمام بے جان چیزوں کی تصویریں بنایا کر اس سے تیرا گزارہ بھی ہوگا اور تو گناہ سے بھی بچا رہے گا۔خیال رہے کہ یہاں باز نہ آنے سے مراد سرکشی کرنا نہیں بلکہ مجبوری مراد ہے۔
Flag Counter