روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ کبوتر کے پیچھے دوڑ رہا ہے تو فرمایا شیطان شیطانہ کا پیچھا کررہا ہے ۲؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان)
۱؎ کبوتر باز کو شیطان فرمایا اور کبوتر بازی کو شیطانہ کیونکہ جو چیز رب تعالیٰ سے غافل کردے وہ بھی شیطان ہے اور غافل ہوجانے والا بھی شیطان۔خیال رہے کہ کبوتر پالنا جائز ہے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی مسجد بلکہ مسجد حرام میں بہت کبوتر پلے ہوئے ہیں،پہلے زمانہ میں کبوتروں سے پیغام رسانی کا کام لیا جاتا تھا مگر کبوتر بازی کرنا ممنوع ہے،ہر بازی ممنوع ہے کہ یہ نماز تلاوت بلکہ دنیاوی ضروری کاموں سے غافل کردیتی ہے جیسے مرغ،بٹیر پالنا جائز مگر مرغ بازی،بٹیر بازی،تیتر بازی اور انہیں لڑانا حرام ہے خصوصًا جب کہ اس پر مالی ہار جیت ہو کہ اب یہ جواءبھی ہے۔مرقات میں فرمایا کہ صرف اڑانے کے لیے کبوتر پالنا مکروہ ہے۔