۱؎ شراب جوئے کی حرمت تو قرآن کریم میں صراحۃً مذکور ہے طبلہ وغیرہ باجوں کی حرمت اشارۃً بیان ہوئی کہ فرمایا"وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشْتَرِیۡ لَہۡوَ الْحَدِیۡثِ"کھیل کی چیزوں میں طبلہ بھی داخل ہے۔
۲؎ نشہ آور چیز خواہ خشک ہو جیسے بھنگ چرس افیون یا پتلی جیسے شراب تاڑی وغیرہ سب حرام ہیں اس پر تمام امت کااجماع ہے۔اختلاف اس میں ہے کہ شراب انگوری کے علاوہ دوسری شرابیں حد نشہ سے کم پینا حرام ہے یا نہیں،اس پر بھی اتفاق ہے کہ افیون،بھنگ،چرس وغیرہ خشک نشہ آور چیزیں دواءً استعمال کی جاسکتی ہیں جب کہ نشہ نہ دیں،بعض معجونوں میں افیون پڑتی ہے۔
۳؎ قاموس میں ہے کہ کوبہ بضم کاف،شطرنج نردشیر،چھوٹا طبل،بربط غرضکہ یہ لفظ مشترک ہے۔