| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قیامت کے دن ایک گردن نکلے گی ۱؎ جس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھتی ہوگی اور دوکان ہوں گے جن سے وہ سنتی ہوگی اور زبان ہوگی جس سے بولے گی کہے گی کہ میں تین شخصوں پر مسلط کی گئی ہوں۲؎ ہر سرکش جابر ظالم پر اور ہر اس پر جو اللہ کے ساتھ دوسرا معبود پوجے اور تصویر سازوں پر۳؎(ترمذی)
شرح
۱؎ یعنی پورا سر یا پورا جسم عذاب کے فرشتے کا یا آگ کا ایک حصہ بہ شکل سر،تیسرے معنی کچھ بعید سے ہیں یہ بڑا ہی خطرناک عذاب کا فرشتہ ہوگا۔ ۲؎ یعنی ان تین قسم کے مجرموں کا عذاب میرے سپرد کیاگیا ہے جیسے بڑے سخت مجرم کے لیے حکومت دُرْلی جتھا مقرر کرتی ہے کہ بڑا مجرم ان کے حوالہ کیا جاتا ہے جو انہیں سخت سزا دیتا ہے لوگ اس جتھے کے نام سے ڈرتے ہیں۔ ۳؎ عنید وہ ظالم باغی شخص ہے جو جان بوجھ کر حق کا انکارکرے۔اس حدیث میں تصویر سازوں کے لیے انتہائی وعید ہے کہ ان کی سزا بت پرستوں کی سزا کے برابر کی گئی ہے۔خدا کی پناہ!