۱؎ اس طرح کہ وہ طاق وغیرہ پر لٹکانے کے قابل نہ رہا تب اسے بچھانا پڑا لٹکانے اور بچھانے کے احکام میں فرق ہے۔
۲؎ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر تصاویر بستر یا فرش میں ہوں جو پاؤں تلے تصویریں روندی جاتی ہوں تو جائز ہے یہ حدیث بظاہر پچھلی حدیث کے مخالف معلوم ہوتی ہے کہ وہاں تو تکیوں کی تصاویر سے منع فرمایا گیا اور یہاں اس کی اجازت دی گئی لہذا یا تو یہ تصویریں جاندار کی نہ تھیں اور اس پر پردہ کو پھاڑنا اس لیے تھا کہ دیواروں چھت پرغلاف ڈالنا دنیاوی تکلف ہے جس سے اہلِ بیت کو بچنا چاہیے اور اگر جاندار کی تصاویر تھیں تو انکے سر کاٹ دیئے گئے تھے جن سے انکا استعمال جائز ہوگیا لہذا یہ حدیث گزشتہ کے خلاف نہیں۔(اشعۃ اللمعات)خیال رہے کہ یہ فرق حکم استعمال کے لیے ہے،رہی تصویر سازی وہ مطلقًا حرام ہے خواہ فرش پر ہو یا بستر میں یا کاغذ یا شیشہ میں یا دیوار وغیرہ میں۔