| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے انہیں سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ایک جہاد میں تشریف لے گئے تو میں نے ایک باریک چادر بنائی پھر میں نے اسے دروازے پر ڈالدیا ۱؎ جب حضور تشریف لائے تو چادر دیکھی تو اسے کھینچا حتی کہ اسے پھاڑ دیا ۲؎ پھر فرمایا کہ اللہ نے ہم کو یہ حکم نہیں دیا کہ ہم پتھروں اور مٹی کو پہنائیں۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ نمط وہ باریک چادر جو بستر پر بچھائی جاوے زیبائش کے لیے،اس کی جمع انماط ہے،دروازے پر اس کا ڈالنا زینت کے لیے تھا نہ کہ پردہ کے لیے۔ ۲؎ یہ پھاڑنا مال کی بربادی نہیں بلکہ برائی کا مٹانا ہے اورعملی تبلیغ اور اظہار ناراضی لہذا یہ عمل عبادت ہے۔ ۳؎ تکلفًا بلا ضرورت دروازوں دیواروں چھتوں پر غلاف ڈالنا بہتر نہیں،چونکہ اہلِ بیت اطہار کی شان بہت اعلیٰ ہے اس لیے حضور نے انہیں اس سے بھی منع فرمایا۔(اشعہ)خیال رہے کہ غلاف کعبہ،غلاف روضۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم،بزرگانِ دین کے قبور کی غلاف و چادریں،قرآن پاک کے جزدان وغیرہ اس حکم میں داخل نہیں کہ وہاں دیواروں کا پہنانا مقصود نہیں بلکہ وہاں اس دینی محترم چیزوں کی عظمت کا اظہار ہے۔کعبہ،قرآن،روضۂ رسول،مزارات اولیاء اللہ شعائر اللہ ہیں اور شعائر اللہ کی تعظیم رکن ایمانی ہے،دیکھو اس کی تحقیق شامی جلد اول میں اور ہماری کتاب جاء الحق میں۔