Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
333 - 975
حدیث نمبر 333
روایت ہے ان ہی سے کہ انہوں نے ایک پردہ خریدا جس میں تصویریں تھیں ۱؎  پھر جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا تو دروازے پر کھڑے ہوگئے اندر نہ آئے ۲؎ میں نے آپ کے چہرے میں ناپسندیدگی محسوس کی۳؎  فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ میں اللہ رسول کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں۴؎ میں نے کیا گناہ کیا ۵؎  تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اس پردہ کا کیا حال ہے میں نے عرض کیا کہ یہ میں نے آپ کے لیے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور آپ اس سے تکیہ لگائیں ۶؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ان تصویروں والے لوگ قیامت کے دن عذاب دیئے جائیں گے ۷؎ ان سے کہا جاوے گا کہ جو تم نے بنایا ۸؎  انہیں زندہ کرو ۹؎ اور فرمایا کہ وہ گھر جس میں تصویر ہو اس میں فرشتے نہیں آتے ۱۰؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ نمرقہ ن اور ر کے کسرہ سے بھی آتا ہے اور ان دونوں کے پیش سے بھی۔تکیہ،پردہ،زین پر ڈالنے کی چادر ان سب کو نمرقہ کہا جاتا ہے۔غالبًا یہ پردہ تھا جو دروازہ پر لٹکایا گیا تھا اس میں جاندار چیزوں کی تصویریں تھیں۔

۲؎  اظہارِ ناراضگی کے لیے یہ عملی تبلیغ ہے۔فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر با اثر عالم یا شیخ کسی فسق کی جگہ نہ جائے تو فسق بند ہوجاوے ایسی صورت میں ہرگز نہ جائے اور اگر اس کے نہ جانے سے اثر نہ پڑے تو جاسکتا ہے اس مسئلہ کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

۳؎ آپ میں مزاج شناسی رسول حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے منہ شریف سے کچھ نہ فرمایا مگر آپ نے چہرہ انور پر ناپسندیدگی کے آثار معلوم کرلیے۔

۴؎  سبحان اللہ! کیسا ایمان افروز کلمہ ہے اس عرض معروض سے دو مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ اللہ کے ساتھ حضور کا نام لینا بغیر فاصلہ کے بالکل جائز ہے،رب تعالیٰ فرماتاہے:" اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ"لہذا یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ رسول بھلا کرے،اللہ رسول کی بڑی مہربانی ہے۔دوسرے یہ کہ توبہ اور دوسری عبادات میں اللہ کے ساتھ حضور کو راضی کرنے کی نیت کرنا بالکل جائز ہے،رب تعالیٰ فرماتاہے:"وَاللہُ وَرَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرْضُوۡہُ"اور فرماتاہے:"وَمَنۡ یَّخْرُجْ مِنۡۢ بَیۡتِہٖ مُہَاجِرًا اِلَی اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ"۔صوفیا فرماتے ہیں کہ ہر گناہ میں اللہ تعالیٰ کی بھی نارضگی ہوتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بھی"عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ"ہر گناہ سے دو حق تلفیاں ہوتی ہیں لہذا ہر گناہ کی توبہ حق تعالیٰ کی بارگاہ میں بھی کرے اور حضور کی بارگاہ میں بھی دونوں ذاتوں سے معافی چاہیے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ دوبارہ الی فرمانے سے معلوم ہوا کہ دونوں ذاتوں کی طرف رجوع کرنا مشکل ہے کوئی کسی کے تابع نہیں۔

۵؎  سبحان اللہ!  گناہ کے علم سے پہلے توبہ کرلی حضور کو راضی کرنے کے لیے رب فرماتاہے:"عَفَا اللہُ عَنۡکَ لِمَ اَذِنۡتَ لَہُمْ"خطا کے ذکر سے پہلے معافی کا اعلان۔

۶؎  یعنی میں نے عرض کیا کہ میں نے یہ کپڑا یا تکیہ آپ کی خاطر خریدا ہے اپنے لیے نہیں خریدا مجھے خبر نہ تھی کہ حضور اس سے ناراض ہوں گے۔

۷؎  اس فرمان سے معلوم ہورہا ہے کہ تصویریں بنانے والے اور ان کو شوقیہ رکھنے والے دونوں ہی اس مذکور ہ سزا کے مستحق ہیں کیونکہ ام المؤمنین نے یہ تصاویر بنائی نہ تھیں صرف رکھی تھیں اور حضور نے یہ ارشاد فرمایا۔(مرقات)اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شوقیہ تصویر کھچوانا بھی حرام ہے کہ تصویر کھچوانے اور تصویر رکھنے میں تصویر بنانے والے کی امداد ہے گناہ پر مدد کرنا بھی گناہ ہے۔

۸؎  یہاں مرقات نے فرمایا کہ اس جگہ تصویر والوں سے مراد تصویر بنانے والے اور تصویر استعمال کرنے سب ہی ہیں اور ان سب پر یہ عتاب ہوگا مگر اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ اس سے مراد صر ف تصویر بنانے والے ہیں کیونکہ خلقتم انہیں سے کہا جاسکتا ہے بہرحال تصویر بنانا سخت حرام اور تصویر کچھوانا اسے حرمت سے رکھنا اس لیے حرام ہے کہ یہ گناہ پر مدد ہے۔

۹؎  یہ حکم تعجیزی ہے جیسے"فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثْلِہٖ"میں ہے یعنی اس فرمان کا مقصود مصورین کو عاجز کرنا ہے نہ کہ انہیں روح پھونکنے کا حکم دینا۔معلوم ہوا کہ ہر حکم وجوب کے لیے نہیں ہوتا۔

۱۰؎  یہاں اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ اگرچہ بعض تصویروں کا رکھنا جائز ہے مگر ان سے بھی رحمت کے فرشتے نہیں آتے کیونکہ تکیہ میں تصویر ہو تو جائز ہے کہ اس میں تصویر کا احترام نہیں پھر بھی حضور نے ارشاد فرمایا کہ اس طرح کی تصویروں سے بھی فرشتے رحمت کے نہیں آتے۔مگر حق یہ ہے کہ جس تصویر کا رکھنا شرعًا جائز ہو اس سے رحمت کے فرشتے نہیں رکتے،جس کا رکھنا ممنوع ہے اس سے رکتے ہیں،اگر یہ تصاویر ذلت سے پڑی تھیں تب یہ فرمان عالی تقویٰ کی تعلیم کے لیے ہے کہ ہمارے اہلِ بیت کو اس طرح تصویریں رکھنا بھی مناسب نہیں،اگر احترام سے تھیں تو یہ فرمان اپنی حقیقت پر ہے۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ جس گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے اس لیے حضور گھر میں نہ آئے۔(مرقات)
Flag Counter