Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
332 - 975
حدیث نمبر 332
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے گھر کوئی ایسی چیز نہ چھوڑتے جس میں تصویریں ہوں مگر اسے توڑ دیتے تھے ۱؎(بخاری)
شرح
۱؎  تصالیب جمع ہے تصلیب کی اس کے معنی ہیں صلیب کی شکل بنانا پھر خود صلیب کو تصلیب کہنے لگے اب یہ لفظ بمعنی تصویر استعمال ہوتا ہے یہاں یہ ہی تیسرے معنی مراد ہیں۔صلیب ٹی کی شکل کی دو لکڑیاں اس طر ح T عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایسی لکڑیوں کی شکل پر سولی دی گئی لہذا یہ لوگ اس کی بہت تعظیم بلکہ اس کی پرستش کرتے ہیں اکثر جگہ صلیبی نشان لگاتے ہیں اور اپنے سینہ پر اسی کے نشان رکھتے ہیں یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم گھر کی کسی چیز پر تصویر باقی نہ چھوڑتے تھے اسے پھاڑ دیتے یا توڑ دیتے تھے۔اس تصویر میں وہ تمام قیدیں ہیں جو شروع باب میں عرض کی گئیں یعنی جاندار کی تصویر غیرضروری اور محترم لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔
Flag Counter