Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
329 - 975
حدیث نمبر 329
روایت ہے حضرت یحیی ابن سعید سے انہوں نے سعید ابن مسیب کو فرماتے سنا کہ رحمن کے خلیل ابراہیم لوگوں میں پہلے وہ ہیں جنہوں نے مہمانوں کی مہمانی کی ۱؎  اور لوگوں میں پہلے آپ نے ختنہ کیا ۲؎  اور لوگوں میں پہلے آپ نے اپنی مونچھ تراشی۳؎  اور لوگوں میں پہلے آپ نے بڑھاپا دیکھا۴؎ تو عرض کیا یارب یہ کیا رب تعالٰی نے فرمایا یہ وقار ہے۵؎ اے ابراہیم،عرض کیا رب میرے وقارکو بڑھادے ۶؎ (مالک)
شرح
۱؎  اس طرح کہ آپ سے پہلے کسی نے مہمان نوازی کا اتنا اہتمام نہ کیا جتنا آپ نے کیا آپ تو بغیر مہمان کھانا ہی نہ کھاتے تھے ۔

۲؎  آپ سے پہلے انبیاءکرام ختنہ شدہ پیدا ہوئے اور انکی امتوں نے ختنہ کیا نہیں کیونکہ اس زمانہ میں ختنہ کا شرعی حکم نہ تھا۔سب سے پہلے آپ کے دین میں ختنہ حکم شرعی بنا اور آپ کی وجہ سے ختنہ سنت ابراہیمی ہوا۔

۳؎   آپ سے پہلے کسی نبی کی یا مونچھیں بڑھی نہیں یا بڑھیں اور انہوں نے تراشیں مگر ان کے دینوں میں مونچھ کاٹنا حکم شرعی نہ تھا اب آپ کی وجہ سے یہ عمل سنت ابراہیمی ہوا۔

۴؎   آپ سے پہلے کسی کے بال سفید نہ ہوتے تھے اگرچہ ان کی عمریں صدہا سال ہوتی سب سے پہلے آپ کے بال سفید ہوئے ۔ آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال ہوئی،نوح علیہ السلام کی عمر ڈیڑھ ہزار سال مگر بال کسی کے سفید نہ ہوئے۔

۵؎ یعنی بال کی سفیدی وقار کا سبب ہے،اس سے حلم،صبر،عفو اور بڑی اعلیٰ صفات انسان میں پیدا ہوجاتی ہیں۔

۶؎ یعنی مجھے حلم و وقار عطا فرما خواہ اس طرح کہ بالوں کی سفیدی بڑھ جاوے جس سے وقار بڑھے یا اس طرح کہ بال ایسے ہی رہیں صرف وقار بڑھے،یہ تو رب تعالٰی کی دین ہے ہمارے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے بال شریف سیاہ رہے وقار سب سے زیادہ عطا ہوا۔
Flag Counter