Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
330 - 975
باب التصاویر

تصویروں کا باب ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  تصاویر جمع ہے تصویر کی بمعنی صورت بنانا،یہ جاندار کی حرام بے جان کی جائز ہے۔تصویر میں مروجہ فوٹو،قلم کی تصویریں،مجسمے سب ہی داخل ہیں کہ غیرجاندار کے حلال ہیں جاندار کے حرام،حضرت سلیمان علیہ السلام کی شریعت میں تصاویر حرام نہ تھیں رب تعالیٰ فرماتاہے:"یَعْمَلُوۡنَ لَہٗ مَا یَشَآءُ مِنۡ مَّحٰرِیۡبَ وَ تَمٰثِیۡلَ"۔
حدیث نمبر 330
روایت ہے حضرت ابوطلحہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اس گھر میں فرشتے نہیں آتے جس میں کتاہو نہ اس گھر میں جس میں تصویریں ہوں ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ آپ کا نام سہل ابن زید ہے،انصاری ہیں،حضرت انس کے سوتیلے والد مگر اپنی کنیت میں مشہور ہیں،آپ کا مزار بصرہ میں ہے،فقیر نے زیارت کی ہے۔

۲؎  ملائکہ سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں،حافظین کاتبین اور عذاب کے فرشتے تو ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں۔کتے سے مراد غیرضروری کتا ہے اور تصاویر سے مراد جاندار کی تصویریں ہیں جو شوقیہ بلاضرورت ہوں اور احترام سے رکھی جاویں یہ قیدیں ضروری یاد رہیں لہذا نوٹ روپیہ پیسہ کی تصاویر جو ضروری ہیں اور فرش و بستر  پر تصاویر جو پاؤں سے روندی جاویں جائزہے ان کی وجہ سے فرشتے آنے سے نہیں روکتے،بچوں کی گڑیاں ان سے کھیلنا بچوں کے لیے جائز ہے مگر اس کی تجارت ممنوع ہے مذہب امام مالک،بعض نے فرمایا کہ گڑیا سازی کی احادیث منسوخ ہیں مگر صحیح یہ ہے کہ غیرمنسوخ ہیں۔(مرقات)اور بچیوں کا گڑیاں بنانا ان سے کھیلنا درست ہے۔
Flag Counter