Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
328 - 975
حدیث نمبر 328
روایت ہے ابن مسیب سے ۱؎  انہیں یہ کہتے سنا گیا کہ اللہ تعالٰی پاک ہے پاکی پسند فرماتا ہے ظاہر باطن ستھرا ہے ستھرا پن پسندکرتا ہے ۲؎  کریم ہے کرم پسند کرتا ہے سخی ہے سخاوت پسند فرماتا ہے۳؎  تو تم صاف رکھو مجھے خیال ہے کہ فرمایا اپنے صحنوں کو۴؎  اور یہود سے مشابہت نہ کرو ۵؎  فرماتے ہیں کہ میں نے مہاجر ابن مسمار سے یہ ذکر کیا ۶؎  تو انہوں نے کہا کہ مجھے عامر ابن سعد نے ۷؎  اپنے والد سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے اس کی مثل روایت کی مگر انہوں نے کہا کہ اپنے صحنوں کو صاف رکھو ۸؎ ( ترمذی)
شرح
۱؎  آپ کا نام سعید ابن مسیب ہے،مشہور تابعی ہیں،خلافت فاروقی کے دوسرے سال میں پیدا ہوئے،آپ کی کنیت ابو محمد ہے،قرشی مخزومی مدنی ہیں،بڑے محدث،فقیہ،متقی پرہیزگار تھے۔حضرت مکحول کہتے ہیں کہ میں طلب علم میں دنیا میں گھوما میں نے چالیس حج کے مگر سعید ابن مسیب سے بڑا عالم نہ پایا     ۹۳؁  ترانوے ہجری میں وفات پائی۔(مرقات)

۲؎  ظاہری پاکی کو طہارت کہتے ہیں اور باطنی پاکی کو طیب اور ظاہری باطنی دونوں پاکیوں کو نظافۃ کہا جاتا ہے یعنی اللہ تعالٰی بندے کی ظاہری باطنی پاکی پسند فرماتا ہے بندے کو چاہیے کہ ہرطرح پاک رہے جسم،نفس روح، لباس،بدن،اخلاق غرضکہ ہر چیز کو پاک رکھے صاف رکھے،اقوال،افعال،احوال عقائد سب درست رکھے اللہ تعالٰی ایسی نظافت نصیب کرے۔

۳؎ کرم و سخاوت میں فرق ہے۔کریم وہ جو غذائیں ہی سخاوت کرے،سخی وہ جو چیز میں سخاوت کرے جس انسان کے اچھے اخلاق ظاہر ہوں وہ کریم ہے۔(مرقات) 

۴؎  یعنی اپنے گھر تک صاف رکھو لباس،بدن وغیرہ کی صفائی تو بہت ہی ضروری ہے گھر بھی صاف رکھو وہاں کوڑا جالا وغیرہ جمع نہ ہونے دو۔

۵؎ کیونکہ یہود اپنے گھر کے صحن صاف نہیں رکھتے،نیز یہود بہت گندے بہت بخیل بڑے خسیس بڑے ذلیل ہیں،عیسائی اگرچہ کافر ہیں مگر وہ یہود کی طرح گندے نہیں ان میں کچھ صفائی ہے اگرچہ ان کے بھی دانت میلے منہ بدبو دار اور ناخن لمبے ہوتے ہیں ہر طرح کی صفائی تو اسلام نے ہی سکھائی ہے۔

۶؎ یعنی میں نے یہ حدیث جو  سعید  ابن مسیب سے سنی تھی مہاجر ابن مسمارکو سنائی اور پوچھا کہ کیا آپ نے بھی یہ حدیث کسی سے سنی ہے مہاجر ابن مسمار زہری ہیں،یہ تابعی ہیں،ثقہ ہیں۔

۷؎  عامر ابن سعد ابن ابی وقاص بھی زہری قرشی ہیں،تابعی ہیں        ۱۰۴؁  ایک سو چارہجری میں وفات پائی ہے، انہوں نے اپنے والد سے اور حضرت عثمان غنی سے ملاقات کی ہے۔(مرقات) 

۸؎ لہذا یہ حدیث موقوف بھی ہے مرفوع بھی سعید ابن مسیب کی روایت میں موقوف ہے اور عامر ابن سعد کی روایت میں مرفوع ۔
Flag Counter