Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
327 - 975
حدیث نمبر 327
روایت ہے حضرت عطاء ابن یسار سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مسجد میں تھے تو ایک شخص سر اور ڈاڑھی بکھیرے آیا ۲؎  تو اس کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا گویا آپ اسے اپنے بال اپنی ڈاڑھی کی درستی کا حکم دے رہے تھے۳؎  چنانچہ اس نے کرلیا پھر واپس آیا۴؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا یہ اس سے بہتر نہیں کہ تم میں سے کوئی شیطان کی طرح سر بکھیرے ہوئے آئے ۵؎ (مالک)
شرح
۱؎  آپ کی کنیت ابو محمد ہے،ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزادکردہ غلام ہیں،مشہور تابعی ہیں،مدینہ منورہ میں قیام رہا،چوراسی سال عمر پائی، ۹۷ھ ؁ ستانوے ہجری میں وفات،پائی مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن ہوئے،اکثر روایات حضرت ابن عباس سے لیتے ہیں،یہ حدیث مرسل ہے۔

۲؎  اس طرح کہ نہ سر میں تیل کنگھی نہ ڈاڑھی میں،دونوں کے بال بکھرے ہوئے تھے جس سے شکل بگڑ گئی تھی بری معلوم ہوتی تھی۔

۳؎  یعنی آپ نے زبان سے کچھ نہ فرمایا بلکہ ہاتھ سے اشارہ کیا کہ ان دونوں کو ٹھیک کرے حضور کا ہر عضو مبلغ ہے۔

۴؎  یعنی مجلس شریف سے باہر گیا وہاں درست کرکے پھر حاضر ہوا۔

۵؎ شیطان سے مراد مردود جن ہیں یعنی بھوت یہ اپنی بدشکلی میں مشہور ہیں ان کی شکل ڈراؤنی ہوتی ہے جیسے فرشتے اچھی صورت سیرت میں مشہور ہیں۔
Flag Counter