Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
325 - 975
حدیث نمبر 325
روایت ہے حضرت حجاج ابن حسان سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم انس ابن مالک کے پاس گئے تو مجھے میری بہن مغیرہ نے بتایا بولیں کہ تم اس دن بچے تھے۲؎  اور تمہارے دو گیسو یا پیشانی پر دو جوڑے تھے۳؎  تو تمہارے سر  پر ہاتھ پھیرا اورتمہیں دعائے برکت دی اور فرمایا کہ ان دونوں کو مونڈوا دیا اور کتروادیا کرو کیونکہ یہ یہود کا طریقہ ہے ۴؎ ( ابوداؤد)
شرح
۱؎  تابعی ہیں،بصری ہیں،امام احمد ابن حنبل نے ایک بار کہا کہ ثقہ ہیں دوسری بار کہا کہ ان سے حدیث لینے میں حرج نہیں،یحیی ابن معین کہتے ہی کہ وہ صالح الحدیث ہیں۔

۲؎  یعنی حضرت انس کے پاس جانے کے واقعہ کی تفصیل مجھے یادنہیں میری بہن مغیرہ نے مجھے یہ تفصیل سنائی وہ بھی ہم سب کے ساتھ اس دن جناب انس کے پاس گئی تھیں۔مغیرہ بدل یا عطف بیان ہے اختی سے اور لفظ مغیرہ مشترک ہے عورت و مرد کے درمیان کہ مغیرہ مردوں کے نام بھی ہوتے ہیں عورتوں کے نام بھی۔

۳؎  قرنان تثنیہ ہے قرن کا بمعنی لٹ یا گیسو اور قصتان تثنیہ ہے قصۃ کا،قصۃ ق کے پیش صاد کے شد سے بمعنی جوڑا یعنی پیشانی کے بال جمع کر کے دھاگہ سے باندھ لیے جاویں۔

۴؎  یعنی حضرت انس نے تمہارے سر پر ہاتھ بھی پھیرا اور تمہارے لیے دعاء برکت بھی کی اور یہ حکم بھی دیا۔پہلےگزر چکا ہے کہ قزع سے حضور انور نے ممانعت فرمائی یہ ہی آپ فرمارہے ہیں کہ یا تو کل بال رکھاؤ یا کل کتراؤ یا منڈاؤ،بعض بال کتر دینا بعض رکھنا درست نہیں یہ طریقہ یہود ہے ۔آج کل سکھ سر کے بال بہت دراز رکھتے ہیں اور انہیں سر کے وسط جوڑا بنالیتے ہیں مسلمان کے لیے یہ بھی ممنوع ہے۔
Flag Counter