| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ آپ اپنی ڈاڑھی زردی سے پیلی کرتے تھے حتی کہ آپ کے کپڑے زردی سے بھر جاتے تھے ۱؎ ان سے کہا گیا کہ آپ زرد خضاب کیوں کرتے ہیں فرمایا کہ میں نے رسول اللہ کو اسی سے خضاب کرتے دیکھا ۲؎ اور کوئی چیز آپ کو اس سے پیاری نہ تھی اور اس سے اپنے کپڑے سارے رنگ لیا کرتے تھے حتی کہ اپنے عمامہ کوبھی ۳؎ (ابواؤد،نسائی)
شرح
۱؎ یعنی ورس خضاب کرتے تھے،یہ ایک گھاس ہے جو زعفرانی رنگ دیتی ہے کبھی صرف اس سے خضاب کرتے ہیں کبھی مہندی میں ملاکر۔کپڑے سے مراد سر سے باندھنے والا کپڑا ہے یا وہ جو خضاب لگا کر داڑھی پر لپیٹ لیا جاتا ہے نہ کہ قمیض و تہبند۔ ۲؎ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ڈاڑھی شریف میں خوشبو لگاتے تھے جس کا رنگ داڑھی پر اور اس کپڑے پر ظاہر ہوجاتا تھا،یہ رنگ خضاب کا نہ تھا یا غسل کے وقت سر و داڑھی شریف میں کوئی چیز مل کر غسل فرماتے تھے صفائی کے لیے یہ رنگ اس کا ہوتا تھا لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں ہے کہ حضور نے خضاب کبھی نہ لگایا۔ ۳؎ یہ ہے سنت کی اتباع کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کوئی کام کسی اور وجہ سے بھی کیا تب بھی حضرت ابن عمر نے اس کام میں اتباع کی،دیکھو حضور کا یہ عمل خوشبو استعمال کرنے کی حیثیت سے تھا حضرت ابن عمر نے رنگ ہی کرلیا ان کا دل اتباع رسول کے رنگ میں رنگا ہوا تھا۔