| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو کوئی اللہ تعالٰی اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو ۱؎ تو بغیر تہبند حماموں میں نہ جائے ۲؎ اور جو اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنی بیوی کو حمام میں نہ جانے دے۳؎ اور جو اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو تو ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جہاں شراب کا دور چل رہا ہو۴؎(ترمذی،نسائی)
شرح
۱؎ یعنی توحید سے لے کر قیامت تک تمام ایمانیات پر ایمان رکھتا ہو۔ایمانیات کے دو کناروں کا ذکر فرماکر تمام عقائد مراد لیے گئے ہیں،ایمان سے مراد کامل ایمان ہے۔ ۲؎ کیونکہ وہاں حمام کے ملازمین ملنے والے اور نہانے والے نائی موجود ہوتے ہیں ان کے سامنے ننگا نہ ہو ہاں اگر تنہائی کی جگہ وہاں مل جاوے تو جائز ہے۔ ۳؎ یعنی اسے وہاں نہ نہانے دے نہ تہبند سے نہ بغیر تہبند وجہ فرق معلوم ہوچکی کہ عورت کا جسم سر سے پاؤں تک ستر ہے۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی حمام میں غسل نہ فرمایا مکہ مکرمہ میں مولد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کے قریب جو حمام ہے جسے حمام النبی کہتے ہیں یا تو اس لیے کہ وہ حضور کی ولادت گاہ کے قریب ہے یا اس لیے کہ اس جگہ کبھی حضور انور نےغسل کیا ہوگا وہاں حمام بنادیا گیا یہ مطلب نہیں کہ اس حمام میں حضور نے غسل کیا،یہ بھی خیال رہے کہ حمام میں تلاوت قرآن ممنوع ہے۔ ۴؎ فقہاء فرماتے ہیں کہ جس دسترخوان پر فسق و فجور ہورہا ہو وہاں کھانا ممنو ع ہے اس کا ماخذ یہ حدیث ہے لہذا اگر شادی میں خاص دسترخوان پر ناچ گانا ہے تو وہاں کھانا نہ کھائے اور اگر اس کے قریب یہ کام ہے خاص دسترخوان پر نہیں تو مشہور متقی نہ کھائے عام مسلمان کھاسکتے ہیں۔