۱؎ عرب کے پانچ صوبوں کے سواء باقی کو عجم کہتے ہیں۔اس فتح عجم کی ابتداء زمانہ صدیقی سے ہی ہوچکی تھی پھر خلافت فاروقی و عثمانی میں تو سبحان اللہ مشرق و مغرب فتح ہوگئے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ پیش گوئی ہوبہو درست ہوئی۔
۲؎ یعنی عورتیں سواء ضرورت کے حمام میں ہرگز نہ نہائیں،مرد بلاضرورت بھی وہاں نہاسکتے ہیں مگر تہبند سے،وجہ فرق ابھی کچھ پہلے عرض کی جاچکی۔حضرت جبر ابن نفر فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر کا فرمان آیا اس میں تھا کہ حمام میں مرد بغیر تہبند اور عورتیں بغیر بیماری کے نہ جائیں۔کھیل صرف تین قسم کے جائز ہیں: گھوڑا،بیوی،تیر۔حضرت ابوالدرداء حمام میں نہاتے اور اس کی بہت تعریف فرماتے تھے کہ حمام دوزخ کو یاد دلاتا ہے اور بدن کو صاف کرتا ہے یعنی وہاں کمرے کی بھڑک سے دوزخ کی بھڑک یاد آتی ہے۔(مرقات)بعض بیماریوں میں حمام میں نہانا بہت مفید ہے،نفاس والی عورت کو حمام سے بہت فائدہ ہوتا ہے اس لیے مریض اور نفاس کا ذکر فرمایا گیا یہ عورتیں بھی حتی الامکان پردہ سے وہاں نہائیں۔