Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
316 - 975
حدیث نمبر 316
روایت ہے حضرت ابوالملیح سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ کے پاس حمص کی کچھ عورتیں آئیں۲؎ آپ نے کہا تم کہاں کی ہو وہ بولیں شام کی آپ نے فرمایا شاید تم اس جہاں کی عورتیں ہو جو حماموں میں جاتی ہیں وہ بولیں ہاں ۳؎  آپ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ کوئی عورت اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ اپنے کپڑے نہیں اتارتی مگر وہ اپنے اور رب تعالٰی کے درمیان پردہ پھاڑ دیتی ہے۴؎ اور ایک روایت میں ہے کہ اپنے گھر کے علاوہ میں مگر وہ اپنا پردہ اپنے اور اللہ عزوجل کے درمیان پھاڑ دیتی ہے ۵؎(ترمذی،ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ کا نام عامر ابن اسامہ ہے،ہزلی ہیں،تابعی ہیں،ان کے والد حضرت اسامہ صحابی ہیں،بصرہ کے رہنے والے ہیں،     ۱۲۲؁  ایک سو بائیس میں وفات پائی۔

۲؎ حمص شام کا مشہور شہر ہے دمشق اور حلب کے درمیان ہے یہاں ہی حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ عنہ کا مزار مقدس ہے،دمشق سے حلب کے دس یسرے(شامی روپیہ)کرایہ ہے درمیان میں حمص آتا ہے،حلب میں زکریا علیہ السلام کامزار ہے۔

۳؎  یعنی ہاں واقعی ہمارے علاقہ میں حمام بہت ہیں اور ہمارے ہاں کے مردوعورتیں حماموں میں غسل کے عادی ہیں۔معلوم ہواکہ لفظ بلیٰ اثبات کے جواب میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

۴؎  یعنی عورت اپنے خاوند کے پاس تو اپنے کپڑے اتار سکتی ہے اس کے علاوہ کسی کے گھر میں کسی کے سامنے ننگی نہیں ہوسکتی اگرچہ اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہ ہو حتی کہ اکیلے میں بھی بلا ضرورت ننگی نہ رہے لہذا عورتوں کا حمام میں ننگے ہونا بھی ممنوع ہوا کہ حمام بھی اسی قاعدے میں داخل ہیں۔(مرقات)پردہ پھاڑنے سے مراد حیاءوغیرت کا پردہ چاک کرنا ہے یعنی ایسی عورت رب تعالٰی کے ہاں بے حیاؤں میں شمار ہوتی ہے،اللہ تعالٰی نے لباس بنایا ہی اس لیے ہے کہ اس کے ذریعہ سترو پردہ پوشی کی جاوے۔

۴؎  ان دونوں روایتوں کے الفاظ میں قدرے فرق ہے معنی بالکل ایک ہیں وہاں الستر تھا یہاں سترھا ہے، وہاں بیننا تھا یہاں فیما بینھما ہے وہاں ربھا تھا یہاں اللہ عزوجل ہے،چونکہ محدثین حضور کے الفاظ بعینہ نقل کرتے ہیں اس لیے یہ فرق روایت بھی دکھادیا۔
Flag Counter