| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سونے سے پہلے اثمد سرمہ لگاتے تھے ہر آنکھ میں تین سلائیاں ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضور فرماتے تھے کہ بہترین دوا جو تم کرو وہ لیپ ہے ۲؎ اور نسوار۳؎ اور پچھنے اور جلاب ۴؎ اور بہترین وہ سرمہ جو تم لگاؤ اثمد ہے کہ وہ نگاہ میں جلا دیتا ہے اور بال اگاتا ہے ۵؎ اور بہترین دن جس میں تم فصد لو سترہ تاریخ ہے اور انیس تاریخ اور اکیسواں دن ۶؎ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو جب معراج کرائی گئی تو آپ فرشتوں کی کسی جماعت پر نہ گزرے مگر انہوں نے یہ ہی عرض کیا کہ فصد اختیارکرو ۷؎(ترمذی)اور فرمایا حدیث حسن،غریب ہے۔
شرح
۱؎ یعنی رات کو سوتے وقت سرمہ لگاتے تھے دوپہری میں سوتے وقت نہیں،سنت یہ ہی ہے کہ رات کو سوتے وقت سرمہ لگائے۔دن میں سرمہ لگانا جمعہ کی نماز کے لیے،عیدین کے لیے سنت ہے،یوں ہی عاشورہ کے دن اور روزانہ شب کو سنت ہے۔ ۲؎ ہر لیپ کو لدود نہیں کہتے بلکہ جو لیپ منہ کے اندرونی حصہ میں کیا جاوے ایک طرف یا دو طرفہ جیسے گلے آجانے کی صورت میں کیا جاتا ہے۔ ۳؎ ناک میں دوا چڑھانا سعوط ہے خواہ پتلی دوا چڑھائی جاوے یا خشک دوا،اکثر دماغی امراض میں نسوار مفید ہوتی ہے۔ ۴؎ پیٹ کے امراض کے لیے جلاب بہترین علاج ہیں خصوصًا سناء مکی کا جلاب عرب شریف میں عموما سناء کا جلاب لیاجاتا ہے،دموی امراض میں فصد یا پچھنے بہترین علاج ہیں مگر ان لوگوں کے لیے جن کے جسم میں خون زیادہ ہو یا خون میں جوش یا فساد آگیا ہو جلاب اور فصد ہمیشہ طبیب حاذق کی رائے سے کرنا چاہیے،بعض شارحین نے فرمایا کہ حجامت،فصد میں فرق ہے سنگی کے ذریعہ خون نکالنا حجامت ہے اور پچھنے سے خون نکالنا فصد۔ ۵؎ اس کی شرح ابھی ہوچکی کہ بال سے مراد پلک کے بال ہیں،یہ فائدے ان لوگوں کے لیے ہیں جنہیں اثمد سرمہ موافق آجاوے ناموافق ہونے کی صورت میں نقصان کرتا ہے اس لیے آنکھ کی بیماری والے طبیب کے مشورہ سے یہ سرمہ استعمال کریں۔ ۶؎ ان تاریخوں کی ترجیح کی پوری وجہ ان شاءاللہ کتاب الطب والرقی میں ہوگی،یہاں اتنا سمجھ لو کہ چاند کی شروع تاریخوں میں خون میں جوش ہوتا ہے اور آخری تاریخوں میں سکون لہذا درمیانی تاریخیں اختیار کی گئیں جب کہ نہ پورا جوش نہ بالکل سکون،یہ تاریخیں چاند کی معتبر ہیں نہ کہ انگریزی اور تاریخیں طاق چاہئیں جفت نہ ہوں۔ ۷؎ فصد میں جسمانی،روحانی بہت فوائد ہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ سر میں فصد کرانے میں جنون،جذام، برص،زیادتی نیند،دانتوں کی تکالیف دور ہوتی ہیں،دوسری روایت میں ہے کہ فصد درد سر،آنکھ کی دھند کو دفع کرتی ہے،اس سے قوت حافظہ زیادتی ہوتی ہے۔فصد کے لیے بہترین دن جمعرات،دو شنبہ،منگل کے دن ہیں،جمعہ،ہفتہ،اتوار کے دن فصد نہ کرائے۔بدھ کے دن فصد کرانے سے کوڑھ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے،منگل کے دن حضرت ایوب علیہ السلام کو شفا ہوئی تھی اس دن فصد بہتر ہے۔(مرقات)