۱؎ یعنی ہمیشہ اثمد سرمہ لگایا کرو۔اثمد الف اور میم کے کسرہ ث کے سکون سے ایک خاص سرمہ کا نام ہے جسے اصفہانی سرمہ کہا جاتا ہے یہ ہلکے سرخ رنگ کا سرمہ ہوتا ہے اس بار حج کے موقعہ پر یہ سرمہ مجھے مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ سے ملا۔بعض شارحین کا قول ہے کہ عام سیاہ سرمہ کو ہی اثمد کہتے ہیں۔بعض نے کہا کہ تیہ کا نام اثمد ہے،بعض نے کہا کہ جس سرمہ میں تھوڑا مشک حل کرلیا جاوے وہ اثمد ہے مگر پہلا قول زیادہ قوی ہے، عرب میں اب بھی اسی خاص لال سرمہ کو اثمد کہا جاتا ہے۔
۲؎ یعنی اثمد سرمہ آنکھوں کی روشنی زیاہ کرتا ہے،پلک کے بال دراز کرتا ہے اگر نہ ہوں تو اگاتا ہے۔مرقات میں ہے کہ یہ آنکھ کا پانی خشک کرتا ہے،آنکھ کے زخم اچھے کرتا ہے،نگاہ قائم رکھتا ہے غرضکہ اس میں بہت فائدے ہیں مگر اس کے لیے جسے موافق آجاوے بعض لوگوں کو موافق نہیں آتا۔غرضکہ طبیب کی رائے سے اسے استعمال کرنا چاہیے۔
۳؎ اس طرح کہ پہلے داہنی آنکھ میں دو سلائیاں پھر بائیں آنکھ میں تین پھر داہنی میں ایک اس طرح کہ ابتداءبھی داہنی سے ہو انتہاءبھی داہنی پر،ہمیشہ رات کو سوتے وقت اس طرح سرمہ لگانا فقیری اور ضعف بصر کو دور کرتا ہے۔بعض روایات میں ہے حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم رات کو سوتے وقت داہنی آنکھ میں تین سلائیاں اور بائیں میں دو لگایاکرتے تھے ہوسکتا ہے کہ کبھی یہ عمل ہو کبھی وہ لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔ یہاں زعم کا فاعل حضرت ابن عباس ہیں اور زعم بمعنی قول ہے نہ کہ بمعنی وہم،عربی میں بہت دفعہ زعم بمعنی قول استعمال ہوتا ہے۔بعض شارحین نے کہا کہ زعم کا فاعل محمد ابن حمید ہیں جو امام ترمذی کے شیخ ہیں مگر پہلا احتمال قوی ہے۔