Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
312 - 975
حدیث نمبر 312
روایت ہے حضرت ثوبان سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب سفرکرتے تو آپ کے گھر والوں میں جس شخص سے آپ کی آخری ملاقات ہوتی وہ فاطمہ تھیں اور پہلے جن کے پاس تشریف لاتے فاطمہ ہوتیں۲؎ چنانچہ آپ ایک غزوہ سے تشریف لائے آپ نے اپنے دروازے پر ٹاٹ یا پردہ ڈالا ہوا تھا اور حضرت حسن وحسین کو چاندی کے دو کنگن پہنائے ہوئے تھے۳؎ تو آپ تشریف لائے مگر اندر نہ آئے۴؎  آپ سمجھ گئیں کہ حضور کو تشریف آوری سے اس نے روکا جو آپ نے دیکھا ۵؎  چنانچہ انہوں نے پردہ پھاڑ دیا اور دونوں کنگن بچوں سے الگ کردیئے اور دونوں سے کاٹ دیئے ۶؎ پس دونوں بچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں روتے ہوئے چلے ۷؎ حضور نے ان دونوں سے وہ لے لیے پھر فرمایا اے ثوبان اسے فلاں کے پاس لے جاؤ ۸؎  یہ لوگ میرے گھر والے ہی ہیں میں یہ ناپسند کرتا ہوں کہ یہ اپنی طیب چیزیں اپنی دنیاوی زندگی میں کھالیں ۹؎  اے ثوبان فاطمہ کے لیے عصب کا ہار ۱۰؎ اور ہاتھی دانت کے دو کنگن خرید لاؤ ۱۱؎(احمد، ابوداؤد)
شرح
۱؎ حضرت ثوبان حضور کے آزاد کردہ مشہور غلام ہیں جو حضور انور کے ساتھ سفروحضر میں ملازم بارگاہ رہتے تھے،آپ کے حالات بیان ہوچکے ہیں کہ آپ کا نام شریف ثوبان ابن بجدد ہے،کنیت ابو عبداللہ حضور کی وفات کے بعد آپ شام چلے گئے،مقام رملہ میں حمص میں مقیم رہے،     ۵۴؁  چون میں وفات پائی۔

۲؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم سفر میں تشریف لے جاتے تو پہلے سارے گھر والوں سے رخصت ہوتے سب سے آخر میں حضرت فاطمہ زہرا سے رخصت ہوتے اور جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے جناب فاطمہ کے گھر تشریف لاتے پھر دوسرے اہلِ بیت کے پاس غرضکہ جانا بھی اس گھر سے ہوتا اور آنا بھی اسی گھر میں اس گھر کی عزت پر لاکھوں سلام۔

۳؎  دروازہ کا یہ پردہ غالبًا تصاویر والا تھا اور چاندی کے کنگن لڑکوں کے لیے تصاویر والا پردہ یہ دونوں حرام ہیں جناب فاطمہ کو ان کی حرمت کی ابھی تک خبر نہ تھی اسی لیے آپ نے یہ دونوں کام کیے ہوئے تھے ورنہ اہل بیت نبوت دانستہ طور پر ناجائز کام نہیں کرسکتے۔

۴؎  اظہارِ ناراضگی کے لیے یہ ایک طریقہ تبلیغ  ہے،یہ تبلیغ  عملی ہے جو قولی تبلیغ سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے یعنی اظہار ناراضگی۔

۵؎  آپ نے نور ایمانی فراست ولایت سے معلوم کرلیا کہ اندر تشریف نہ لانے کی وجہ صرف یہ دو کام ہی ہو سکتے ہیں۔

۶؎ یا تو قطعت تفسیر ہے تب تو دونوں کے معنی ہیں علیٰحدہ کردیئے یا ف عطف کی ہے یعنی کنگن دونوں صاحبزادوں سے اتار لیے اور توڑ دیئے تاکہ آئندہ یہ بچے انہیں نہ پہن سکیں بہرحال حضور کی صرف ناراضگی ملاحظہ فرماکر یہ دونوں چیزیں ختم کر دیں۔

۷؎  اس طرح کہ کنگن کے ٹکڑے ان کے ہاتھوں میں تھے جناب فاطمہ نے یہ ٹکڑے ان دونوں کے ہاتھ حضور کی خدمت میں بھیجے تاکہ حضور انہیں اپنے ہاتھ سے خیرات کردیں اور حضور انور کو اس عمل پر اطلاع ہو جاوے اور حضور گھر میں تشریف لاویں۔

۸؎  وہ لوگ فقراء ہیں انہیں صدقہ کرکے دے آؤ ان کا کام چل جاوے گا جناب فاطمہ زہرا کا یہ ہی منشا تھا۔

۹؎  یعنی حضرت فاطمہ زہرا بھی ان کنگنوں کو نہ پہنیں کہ اگرچہ ان کے لیے انکا پہننا جائز ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ میرے اہل بیت جائز آرائش ٹیپ ٹاپ بھی نہ کریں تاکہ ان کے دل دنیا میں نہ لگیں اور آخرت میں ان کے درجات اور بلند ہوں وہ دنیا میں فقروریاضت کی زندگی گزاریں،چونکہ فاطمہ زہرا کوگزشتہ واقعہ سے غم ہوا تھا اس لیے حضور اکرم نے ان کا غم غلط فرمانے کے لیے اگلا حکم صادر فرمایا تاکہ تسلی ہو۔

۱۰؎  ایک یمنی کپڑے کا نام عصب ہے جو دھاری دار ہوتا ہے اور ایک دریائی جانور کی ہڈی ہے جو کوڑیوں کے مشابہہ ہوتی ہے اسے سکھا کر ہار کے منکے بنائے جاتے ہیں وہ ہی یہاں مراد ہے،بعض نے کہا کہ عصب ایک دریائی جانور کے دانت ہیں جسے فرس فرعون کہتے ہیں۔(اشعہ)

۱۱؎  اکثر شارحین نے عاج کے معنی ہاتھی دانت کیے ہیں۔بعض نے فرمایا کہ یہ بھی ایک دریائی جانور کے دانت ہیں سواء سؤر اور انسان کے باقی تمام حرام جانوروں کی ہڈی جو خشک ہو پاک ہے۔
Flag Counter