۱؎ آپ کا نام عبداللہ ابن عبید اللہ ابن ابی ملیکہ ہے،تیمی قرشی ہیں،مشہور جلیل القدر تابعی ہیں،سیدنا عبداللہ ابن زبیر کے زمانہ میں قاضی مکہ رہے،تیس صحابہ سے آپ کی ملاقات ہے،آپ حضرت عائشہ سیدنا عبداللہ ابن عباس اور ابن زبیر وغیرہم سے روایت کرتے ہیں رضی اللہ عنہم۔
۲؎ یعنی مردوں کے سے جوتے پہنتی ہے۔نعلین عمومًا وہ جوتے کہلاتے ہیں جو مردانہ ہو ۔
۳؎ معلوم ہوا کہ مردوں عورتوں کے جوتوں میں بھی فرق چاہیے۔صورت،لباس،جوتہ،وضع قطع سب ہی میں عورت مردوں سے ممتاز رہے،ہاں علم و فضل تقویٰ طہارت میں مردوں سے بڑھ جانے کی کوشش کرے۔ حضرت عائشہ صدیقہ کے متعلق کہا جاتا ہے رجلۃ الرای آپ مردوں کی سی رائے رکھتی تھیں،اسلام نے تو نمازوحج و عمرہ،جہاد جیسی عبادات میں بھی عورت و مرد میں امتیاز رکھا ہے۔