| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے جس کے ہاتھ میں کوئی تحریر تھی پردے کے پیچھے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف اشارہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کا ہاتھ روک لیا ۱؎ فرمایا میں نہیں جانتا کہ مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا ہاتھ ہے وہ بولی بلکہ عورت کا ہاتھ ہے ۲؎ فرمایا اگر تو عورت ہوتی تو اپنے ناخن میں تبدیلی کر لیتی یعنی مہندی سے۳؎(ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎ یعنی اپنا ہاتھ شریف روک لیا اس کے ہاتھ سے خط نہ لیا اظہار ناراضی کے لیے حضور انور نے کسی اجنبی عورت کو ہاتھ نہ لگایا حتی کہ ان کو زبان سے بیعت فرمایا۔ ۲؎ یہ سوال و جواب بھی اظہارِ ناراضی کے لیے ہیں ورنہ حضور کو خبرتھی کہ یہ عورت کا ہاتھ ہے عورت کا ہاتھ چھپا نہیں رہتا پھر اس کی آواز پہچانی جاتی ہے۔ ۳؎ معلوم ہوا کہ عورت مہندی وغیرہ سے اپنے ناخن رنگین کرے یہ بھی کافی ہے یا مہندی سے ہتھیلیاں رنگے یا صرف ناخن،آج کل ناخن پر پالش لگانے کا رواج ہے مگر پالش میں جسامت ہوتی ہے اس لیے اگر ناخنوں پر لگی ہو تو عورت کا وضو یا غسل نہ ہوگا کہ پالش کے نیچی پانی نہ پہنچے گا۔غرضیکہ ایسی چیز لگائی جاوے جو صرف رنگ دے اس میں جسامت نہ ہو،ابھی جو حضرت عائشہ صدیقہ کی روایت میں گزرا کہ حضور انور کو مہندی پسند نہ تھی یہ اپنی ازواج پاک کے متعلق تھا کہ حضور انور کی ازواج مطہرات کے لیے مہندی بہتر نہ تھی عام عورتوں کے لیے مہندی بہتر ہے۔