Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
307 - 975
حدیث نمبر 307
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ ہند بنت عتبہ نے عرض کیا ۱؎  یارسول اللہ مجھے بیعت فرمالیجئے ۲؎ تو فرمایا ہم تم کو بیعت نہ کریں گے حتی کہ تم اپنے ہاتھوں میں تبدیلی کرلو یہ ہاتھ تو گویا درندے کے ہاتھ ہیں۳؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ ہند بنت عتبہ ابن ربیعہ ہیں،ابو سفیان کی بیوی جناب امیر معاویہ کی والدہ،فتح مکہ کے دن ابوسفیان کے اسلام کے بعد آپ اسلام لائیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کا نکاح قائم رکھا،بڑی عاقلہ فہیمہ تھیں،کبھی زنا کے قریب نہ گئیں،جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بیعت کے وقت فرمایا کہ زنا نہ کرنا تو آپ بولیں کیا کوئی شریف عورت بھی زنا کرسکتی ہے۔حضرت عمر کی خلافت میں عین ابوقحافہ کے وفات کے دن فوت ہوئیں حضرت عائشہ نے آپ سے روایات لیں رضی اللہ عنہا۔(مرقات)عہدِ فاروقی میں غزوہ قادسیہ و یرموک میں بڑی مجاہدانہ شان سے شریک رہیں بڑی خدمت اسلام کی۔

۲؎  یہ بیعت علاوہ بیعت اسلام کے کوئی اورتھی کسی خاص معاہدہ پر بیعت اسلام فتح مکہ کے دن کی گئی تھی۔

۳؎  یعنی تمہارے ہاتھ مردوں کی طرح سفید ہیں ان میں مہندی سے رنگ کرو پھر بیعت کرو۔اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو مردوں کی طرح چٹے ہاتھ رکھنا مکروہ ہیں اور مردوں کو عورتوں کی طرح ہاتھ پاؤں میں مہندی لگانا مکروہ ہے حتی کہ عورت کو چاندی کی انگوٹھی بہتر نہیں،اگر پہنے تو اسے رنگ کرلے تاکہ مردوں کی مشابہت نہ رہے۔(اشعۃ اللمعات)
Flag Counter