Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
306 - 975
حدیث نمبر 306
روایت ہے کریمہ بنت ہمام سے ۱؎  کہ ایک عورت نے جناب عائشہ سے مہندی کے خضاب کے متعلق پوچھا ۲؎ آپ بولیں کوئی حرج نہیں لیکن میں اسے ناپسند کرتی ہوں۳؎ میرے محبوب اس کی مہک ناپسند کرتے تھے ۴؎(ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎ آپ تابعیہ ہیں،آپ کے والد کا نام ابراہیم ابن محمد ابن ابراہیم ابن ہمام ہے۔(مرقات)

۲؎  کہ عورتوں کو اس کا خضاب ہاتھ پاؤں اور سر میں لگانا کیسا ہے مگر غالب یہ ہے کہ یہاں سر میں مہندی لگانا مراد ہے تاکہ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف نہ ہو جس میں عورتوں کو ہاتھ پاؤں میں مہندی لگانے کا حکم دیا گیا ہے لہذا حدیث واضح ہے(مرقات)

۳؎  شاید سائلہ نے حضرت ام المؤمنین سے پوچھا ہوگا کہ آپ مہندی کیوں نہیں لگاتیں تب آپ نے یہ جواب دیا کہ اس میرے فعل کی وجہ یہ ہے۔

۴؎  اس حدیث کی بنا پر شوافع کہتے ہیں کہ مہندی میں خوشبو نہیں لہذا بحالت احرام اس کا خضاب درست ہے کیونکہ حضور انور کو خوشبو  پسند تھی اور مہندی کی بو پسند  نہ تھی اگر مہندی میں بھی خوشبو ہوتی تو آپ کو پسند ہوتی،امام اعظم فرماتے ہیں کہ مہندی ہے تو خوشبو اس کا خضاب احرام میں جائز نہیں مگر حضور انور کو جنس خوشبو پسند تھی نہ کہ ہر فرد خوشبو یا بعض خوشبوئیں زیادہ پسندتھیں بعض کم جیسے حضور انور کو گوشت پسند تھا مگر بعض جانوروں کے گوشت ناپسند تھے تو اس سے لازم یہ نہیں کہ وہ گوشت گوشت ہی نہیں۔فقیر کہتا ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور کی ازواج پاک کے ہاتھ پاؤں کی مہندی بھی بہتر نہ تھی کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی ازواج پاک سر میں تو مہندی لگاتی ہی نہ تھیں ان کے بال سفید تھے ہی نہیں ہاتھ پاؤں میں لگاتی تھیں اسے ناپسند فرمایا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور انور کے پردہ فرمانے کے بعدبھی ازواج پاک حضور کی ناپسند چیزیں استعمال نہ فرماتی تھیں،حضور حیات ہیں اپنے ازواج پاک کو بعد وفات ملاحظہ فرما رہے ہیں،ان کے حالات سے خوش ہوتے ہیں یہ ناپسندیدگی صرف ازواج پاک کے لیے ہے دوسری عورتوں کے لیے حرج نہیں۔
Flag Counter