۱؎ آپ کا نام نسیبہ بنت کعب ہے،کنیت ام عطیہ،عظیم الشان صحابیہ ہیں،قریبًا تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہیں غازیوں کی خدمت زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔
۲؎ اس زمانہ میں قاعدہ یہ تھا کہ بچیوں کی پیدائش کے وقت دائی یا کوئی اور عورت بچی کے نال کے ساتھ کچھ پارۂ گوشت پیشاب کی جگہ کا بھی کاٹ دیا جاتا تھا اسے لڑکیوں کا ختنہ کہتے تھے،اس کے متعلق فرمایا کہ یہ پارۂ گوشت زیادہ نیچے سے نہ کاٹے اولًا تو حدیث صحیح نہیں اگر صحیح بھی ہو تو صرف جواز ثابت کرے گی،احناف کے ہاں لڑکی کا ختنہ مکروہ ہے۔
۳؎ جیسے بچہ کے ختنہ سے صفائی اچھی رہتی ہے ایسے ہی اس ختنہ سے صفائی زیادہ نصیب ہوتی ہے،اس سے صحبت میں زیادہ لذت ہوتی ہے،مرد کے ختنہ سے عورت کو لذت زیادہ اور عورت کے ختنہ سے مرد کو لذت زیادہ،اب اس کا دنیا میں غالبًا رواج نہیں۔