۱؎ یعنی سفید ریش والے مؤمن کے لیے قیامت میں نور ہوگا کہ اس کی سفید ڈاڑھی نورانی ہوگی یا نور کا باعث ہوگی اس دن سواء ابراہیم علیہ السلام کے ڈاڑھی کسی کے نہ ہوگی مگر یہ سفید ڈاڑھی چہرہ کے نور کا باعث ہوگی۔ان دونوں حدیثوں کی بناء پر حضرت علی،سلمہ ابن اکوع،ابی ابن کعب اور بہت صحابہ کرام نے کبھی خضاب نہ لگایا اپنی ڈاڑھی اور سر سفید رکھے،وہ فرماتے تھےکہ چٹی ڈاڑھی نور اور درجات کا باعث ہو گی ۔بعض صحابہ کرام اور حضرت حسن و حسین نے خضاب لگایا گزشتہ احادیث کی بنا پر لہذا دونوں عمل جائز ہیں۔علماء فرماتے ہیں کہ اگر اپنے شہر میں خضاب کا رواج عام ہو تو خضاب کرنا بہتر ہے،اگر سفید ڈاڑھی کا رواج عام ہو تو سفید رکھنا بہتر اور جہاد کے موقع پر خضاب افضل۔(مرقات)یوں ہی اگر ہمارے شہر یا ملک میں یہودی سکھ عام ہوں جو خضاب نہیں کرتے تو خضاب کرنا افضل ہے۔