۱؎ ایک برتن سے اور ایک ساتھ غسل کرتے تھے پردہ سے کہ دونوں حضرت تہبند باندھے ہوتے تھے۔اس کی بحث کتاب الغسل میں گزرچکی ہے۔وہ حضرات برہنہ ہوکر کبھی غسل نہ کرتے تھے،مستحب بھی یہ ہی ہے کہ غسل خانہ میں بھی تہبند باندھ کر غسل کرے،حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی ایک دوسرے کا ستر نہ دیکھا،ستر سے مراد ناف سے گھٹنے تک کا بدن ہے یہ دونوں ہستیاں پہلے اپنے ہاتھ دھولیتے تھے پھر بڑے برتن سے چلو لیتے تھے تاکہ پانی مستعمل نہ ہوجاوے اور اسطرح غسل فرماتے تھے کہ بدن کا غسالہ برتن میں نہیں پڑتا تھا۔
۲؎ تابگوش بالوں کو وفرہ کہا جاتا ہے اور تابدوش کو لمہ ان دونوں کے درمیان کو جمہ یعنی حضور کے بال شریف کندھوں تک نہ ہوتے تھے کندھوں سے قریب ہوتے تھے کان کی گدیوں سے نیچے اور کندھوں سے اوپر یہ اکثری حالت کا ذکر ہے۔