Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
299 - 975
حدیث نمبر 299
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ بڑھاپے کی نشانی نہ اکھیڑو کہ وہ مسلمان کا نور ہے ۱؎ جو اسلام میں بوڑھا ہو تو اللہ اس کے لیے ایک نیکی لکھتا ہے اور اس سے اس کی برکت سے ایک گناہ مٹاتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کا درجہ بلند کرتا ہے۲؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی جب سر یا ڈاڑھی میں چٹے بال شروع ہوجاویں تو انہیں مت اکھیڑو ان چٹے بالوں سے نفس کمزور ہوتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ اب میں بوڑھا ہو چلا ہوں آخرت کی تیاری کروں یہ بال اکھیڑ دینے سے وہ اپنے کو جوان ہی سمجھے گا،یہ فرق ہے خضاب اور سفید بال اکھیڑنے میں اس لیے خضاب کا حکم دیا اکھیڑنے سے منع فرمایا، سفید بال خواہ سفید ہی رہیں یا سرخ کردیئے جاویں قبر یاد دلاتے ہیں کہ تیاری کرو چلنے کا وقت قریب آگیا سویرا ہوگیا اب جاگ جاؤ۔شعر

اٹھ جاگ مسافر بھور ہوئی اب رات کہاں جو سووت ہے	جو  جاگت ہے سو پاوت ہے  جو سووت ہے وہ کھووت ہے

اٹھ نیند سےاکھیاں کھول ذرا اور رب سےاپنےدھیان لگا	یہ پریت کرن کی ریت نہیں رب جاگت ہےتو سووت ہے

۲؎ امام مالک نے بروایت سعید ابن مسیب نقل فرمایا کہ سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بال سفید ہوئے آپ نے پوچھا یارب یہ کیا فرمایا یہ وقار اور نور ہے،فرمایا الٰہی میرا وقار اور نور اور زیادہ کر۔وہ جو حاکم و ابن سعد نے حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت کی کہ رب تعالٰی نے حضور کو چٹے بال سے بگاڑا نہیں (حاشیہ بیضاوی)وہاں معنی یہ ہیں کہ حضور کے کچھ بال سفید ہوئے تو اس سے حضور کا حسن اوربھی زیادہ ہوگیا کچھ کمی نہ آئی۔علماء فرماتے ہیں کہ سفید بال اکھیڑنا زینت کے لیے ہو تو منع ہے۔(مرقات)
Flag Counter