Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
30 - 975
حدیث نمبر 30
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ ایک درزی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کے لیے بلایا جسے اس نے تیار کیا تھا تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا ۱؎ تو اس نے جو کی روٹی اور شوربا پیش کیا جس میں کدو اور خشک گوشت تھا ۲؎ تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیالے کے آس پاس سے کدو تلاش کرتے تھے۳؎ اس دن کے بعد سے میں کدو سے محبت کرتا رہا ۴؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یا تو اس درزی نے حضرت انس کی بھی دعوت کی تھی یا آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص تھے اور مخدوم کے ساتھ عمومًا خاص خدام جایا ہی کرتے ہیں،گھر والے ان کی آمد سے راضی ہوتے ہیں عرفًا یہ بات مروج ہے اس لیے آپ بھی حضور انور کے ساتھ گئے۔جس حدیث میں آتا ہے کہ پانچ صاحبوں کی دعوت پر چھٹا آدمی ساتھ گیا تو حضور انور نے اس کے لیے علیٰحدہ اجازت مانگی،صاحبِ خانہ نے اجازت دے دی تب اسے کھانے میں شریک کیا وہ چھٹا آدمی خادم خاص نہ تھا لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں۔

۲؎ قدید بنا ہے قد سے بمعنی کاٹنا،عرب میں گوشت کے بڑے بڑے پارچے نمک لگا کر سکھالئے جاتے ہیں جو عرصہ تک کھائے جاتے ہیں انہیں قدید کہتے ہیں۔ہم نے بھی منٰی شریف میں بدویوں کو قربانی کا گوشت سکھاتے دیکھاہے۔

۳؎ حوال جمع ہے حول کی بمعنی گھومنا،کناروں کو حوال کہا جاتا ہے کہ اس طرف گھومنا ہوتا ہے۔قصعہ یا صحفہ وہ بڑا پیالہ جس سے پانچ چھ آدمی کھاسکیں یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم پیالے کے ہر طرف سے کدو کے ٹکڑے اٹھاکر کھانے لگے۔معلوم ہوا کہ کدو مرغوب تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ جب مخدوم و خادم ایک پیالے سے کھائیں تو مخدوم ہر طرف سے کھاسکتا ہے۔وہ جو ارشاد ہے کل مما یلیك اپنے سامنے سے کھاؤ، وہاں چھوٹوں یا برابر والوں سے خطاب ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔مرقات نے فرمایا کہ جب ایک ساتھی کے ہر طرف ہاتھ ڈالنے سے دوسرے ساتھی نفرت کریں تب یہ حکم ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ شریف سے چیز لگ کر تبرک بن جاتی ہے،حضرات صحابہ نے تو حضور کا پیشاب بلکہ خون بھی پیا ہے تبرکًا لہذا حضور کا حکم دوسراہے۔(مرقات)بہرحال یہ حدیث بہت واضح ہے۔بعض روایا ت میں ہے کہ حضرت انس بھی کدو کے ٹکڑے تلاش کرکے حضور انور کے سامنے رکھنے لگے۔

۴؎ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ اپنے خدام وغلاموں کی دعوت قبول کرنا چاہیے اگرچہ وہ اپنے سے درجہ میں کم ہو۔دوسرے یہ کہ خادم کو اپنے ساتھ ایک پیالے میں کھلانا بہت اچھا ہے۔تیسرے یہ کہ کدو پسندکرنا سنت ہے۔چوتھے یہ کہ ہر سنت سے محبت کرنا خواہ سنت زائد ہو یا سنت ابدی طریقہ صحابہ کرام ہے۔شعر

فقط اتنی حقیقت ہے ہمارے دین و ایمان کی	کہ اس جان جہاں کے حسن پر دیوانہ ہوجانا

پانچویں یہ مخدوم اپنے خادم کے ساتھ کھائے تو پیالے میں سے ہرطرف سے کھاسکتا ہے خادم کو یہ حق نہیں۔چھٹے کہ خادم پیالہ سے بوٹیاں یا کدو وغیرہ چن کر مخدوم کے سامنے رکھ سکتا ہے۔
Flag Counter