۱؎ تلبینہ بنا ہے لبن بمعنی دودھ سے،عرب میں آٹا یا بھوسی کو پتلا پتلا پکاتےہیں اس میں کچھ دودھ کچھ شہد ڈالتے ہیں اسے اردو میں لُپٹا اور پنجاب میں سیرہ کہتے ہیں۔یہ چونکہ دودھ کی طرح سفید اور پتلا ہوتا ہے اس لیے تلبینہ کہا جاتا ہے،یہ بہت ہلکی غذا ہے زود ہضم ہے،اکثر بیماروں کو دیا جاتا ہے،یہ پیٹ میں بوجھ نہیں کرتا دل کو قوت بخشتا ہے۔مرقات وغیرہ نے فرمایا کہ اس سے دل کی گھبراہٹ بھی دور ہوجاتی ہے بہت اعلیٰ چیز ہے۔اللہ تعالٰی نے حضور کو حکمت بھی بخشی ہے۔مجمہ بنا ہے جمام سے بمعنی راحت۔
۲؎ بعض رنج سے مراد وہ رنج ہے جو بیماری کی کمزوری کی وجہ سے ہو۔جو رنج بیرونی فکر کی وجہ سے ہو اس کے لیے بھی اسے مفید فرمایا گیا مگر بیماری کے رنج کے لیے بہت مفید ہے۔