۱؎ آپ بڑے بہادر پہلوان تھے،جنگ بدرواحد میں مشرکین کی طرف سے لڑنے آئے،جنگ احد سے واپسی کے موقعہ پر مسلمان ہوگئے پھر موتہ میں مجاہد ہو کر گئے ۶ ہجری میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو حبشہ نجاشی کی طرف پیغام دے کر بھیجا۔ ۶۰ ساٹھ ہجری میں وفات پائی۔(اشعہ و مرقات)
۲؎ اس طرح کہ پوری دستی بھنی ہوئی تھی،حضور انور چھری سے بوٹیاں کاٹتے اور کھاتے تھے یا دانت سے نوچ کر کھاتے تھے۔احتزاز بنا ہے حز سے بمعنی قطع۔
۳؎ یعنی نہ تو شرعی وضو کیا نہ عرفی وضو کیا یعنی نہ ہاتھ دھوئے نہ کلی کی کیونکہ کھانا کھا کر ہاتھ دھونا کلی کرنا سنت ہے مگر واجب نہیں،یہ عمل شریف بیان جواز کے لیے ہے۔خیال رہے کہ پختہ گوشت کے بڑے بڑے پارچے چھری سے کاٹ کر کھانا جائز ہے مگر ضرورت کی وجہ سے مگر بلاضرورت چھری کانٹے سے کھانا مکروہ و ممنوع ہے کہ کفار عجم کا طریقہ ہے،(اشعہ)ہاتھ سے کھانا نوچنا سنت ہے یہاں ضرورۃً یہ عمل کیا گیا۔