۱؎ یہ حکم مجاہدین کے لیے ہے کہ وہ سفید بال لے کر جہاد میں نہ جائیں یا ان کے لیے جو سفید بالوں کی حفاظت میں مسلمان ہوں،دوسرے مسلمانوں کے لیے اختیار ہے کہ بال سفید رکھیں یا سیاہ کے علاوہ کوئی اور خضاب لگائیں اس کی اور توجیہیں بھی ہیں۔(مرقات وغیرہ)
۲؎ یعنی یہودی اپنے سر و ڈاڑھی کے بال چٹے جیسے سفید رکھتے ہیں تم سرخ یا پیلے کرلیا کرو تاکہ ان کی مشابہت سے بچو۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ مسلمان یہود کی مخالفت کے لیے ڈاڑھیاں منڈوا نہ دیں بلکہ اونہیں سرخ کرکے اون کی مخالفت کریں۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ جو سفید ڈاڑھی والا کافر مسلمان ہو وہ ضرور خضاب کرے تاکہ کفر و اسلام کے رنگوں میں فرق ہوجائے مگر جو پرانا مسلمان ہو اس کے لیے سفید ڈاڑھی رکھنا بھی درست ہے۔
۳؎ یہ حدیث احمد نے حضرت زبیر سے روایت کی،احمد نے حضرت انس سے یوں روایت کی بالوں کا سفید رنگ بدلو اور سیاہ خضاب سے بچو کیونکہ سیاہ خضاب کفار کا ہے۔مشہور یہ ہے کہ سب سے پہلے سیاہ خضاب لگانے والا فرعون تھا۔(مرقات)