Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
290 - 975
حدیث نمبر 290
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سر میں مانگ نکالتی تھی تو آپ کی مانگ آپ کے درمیان سر سے چیرتی تھی ۱؎  اور آپ کی پیشانی کے بال دو آنکھوں کے درمیان چھوڑتی۲؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یہ ہی سنت ہے کہ سر کے بال بکھرے نہ رہیں ان میں کنگھی کی جاوے،بالوں کے دو حصے کیے جاویں اور مانگ بیچ سر میں ناک کے اوپر سے سیدھی نکالی جاوے،اب فیشن پرست مردوعورت ایک طرف سے مانگ نکالتے ہیں یعنی ٹیڑھی مانگ خلاف سنت ہے۔

۲؎ اس جملہ کے شارحین نے کئی معنی کیے ہیں۔ظاہر یہ ہے کہ یہ کلام پہلے کلام کا تتمہ ہے یا فوخ کہتے ہیں وسط سریعنی کھوپڑی کو۔مطلب یہ ہے کہ میں حضور انور کے بال شریف کے دو حصے کرتی تھی ایک حصہ داہنی جانب دوسرا حصہ بائیں جانب اور پیشانی کے اوپر سے یہ مانگ شروع کرتی تھی اور کھوپڑی شریف سے اسے گزارتی تھی پوری مانگ بیچ سر میں ہوتی تھی سیدھی جاتی تھی۔یہ ہی معنی بہت موزوں ہیں(مرقات و اشعہ)
Flag Counter