۱؎ غالبًا فتح مکہ کے دن کی تشریف آوری مراد ہے جب حضور نے ام ہانی کے گھر میں غسل بھی کیا اور نماز چاشت بھی پڑھی تھی بعد ہجرت حضور صلی اللہ علیہ و سلم چار بار مکہ معظمہ تشریف لے گئے عمرہ قضا کے لیے،فتح مکہ کے لیے،عمرہ ہجرانہ کے لیے اور حجۃ الوداع کے لیے۔حضور انور نے چار عمرے کیے ہیں اور ایک حج،تین عمرے ذیقعدہ ہی میں ایک عمرہ جو حج الوداع کے ساتھ کیا وہ ذی الحجہ میں۔یہ واقعہ جو آپ بیان فرمارہی ہیں وہ فتح مکہ کے دن کا ہے۔
۲؎ بٹے ہوئے بالوں کو غدیرہ ضفیرہ کہا جاتا ہے جس کی جمع غدائر اور ضفائر ہے یعنی اس دن حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بالوں مبارک کو چارحصوں میں کیا ہوا تھا دو حصے بٹ کر داہنے ہاتھ کی طرف لٹکے ہوئے تھے اور دو حصے بائیں جانب۔