| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ایک کا کھانا دو کو کافی اور دو کا کھانا چار کو کافی ہے اور چار کا کھانا آٹھ کو کافی ہے ۱؎ (مسلم)
شرح
۱؎ یہ زیادہ نازک حالات کے لیے ہے جب کہ کھانے میں بہت ہی کمی ہوجائے،ان ہنگامی حالات میں آدھا پیٹ کھانا چاہیے اتنے کھانے سے بھی انسان مرتا نہیں کام چل جاتا ہے بلکہ ارزانی کے زمانہ میں بھی مسلمان کو چاہیے کہ کبھی روزہ رکھے کبھی کم کھائے تاکہ مصیبت پڑنے پر بھوک برداشت کرسکے۔ہر ماہ میں تین روزے سنت ہیں اس کی ایک حکمت یہ بھی ہے۔دوسری روایت میں ہے کہ کھانا الگ نہ کھاؤ مجتمع ہوکر کھاؤ جماعت میں برکت ہے۔(مرقات)حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ جماعت کے ساتھ کھانا کھاتے تھے جیساکہ روایات میں ہے۔