روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنی مونچھوں سے کچھ کترتے یا لیتے تھے ۱؎ اور اللہ کے خلیل جناب ابراہیم بھی یہ کام کرتے تھے ۲؎(ترمذی)
شرح
۱؎ راوی کو شک ہے کہ حضرت ابن عباس نے یاخذ کہا یا یقص معنی دونوں کے ایک ہی ہیں۔ ۲؎ غالبًا حضرت ابراہیم پہلے وہ نبی ہیں جنہوں نے مونچھیں تراشیں آپ کے بعد تمام نبیوں نے یہ عمل کیا اور ہمارے حضور نے یہ سنت خلیل جاری فرمائی لہذایہ عمل فطرت ہے اس پر بڑا ثواب ہے۔مونچھیں ہرہفتہ یا پندرہ دن میں ضرور تراشنا چاہئیں۔