Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
279 - 975
حدیث نمبر 279
روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر جب دھونی لیتے تو لوبان سے دھونی لیتے غیر مخلوط ۱؎  یا کافور سے لیتے جسے وہ لوبان کے ساتھ ڈالتے ۲؎  پھر فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اسی طرح دھونی لیتے تھے ۳؎(مسلم)
شرح
۱؎ استجمار وہ خوشبو لینا جو جمرہ یعنی آگ کے انگاروں پر رکھ کر حاصل کی جاوے یعنی بخور یا دھونی اسی لیے انگیٹھی کو مجمرہ کہتے ہیں یہ جمرہ سے ہے نہ جمار سے،جمار سے جو استجمار آتاہے اس کے معنی ہوتے ہیں ڈھیلے سے استنجا کرنا،اسی سے ہے جمار جن کی رمی حج میں کی جاتی ہے۔لوبان مشہور خوشبو ہے جو پہلے بہت مروج تھی اب اگربتیوں کی وجہ سے اس کا رواج کم ہوگیا۔

۲؎  یعنی کبھی تو خالص لوبان سے دھونی  لیتے  کبھی لوبان کے ساتھ کافور بھی شامل فرمالیتے تھے دونوں کی ملاکر دھونی لیتے تھے۔

۳؎  یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کبھی صرف لوبان سے اور کبھی لوبان و کافور کے مجموعہ سے دھونی لیا کرتے تھے میں بھی اس سنت پر عمل کرتا ہوں۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بطور عادت کریمہ جو کام کیے وہ سنت زائدہ کہلاتے ہیں۔
Flag Counter