| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دو کا کھانا تین کو کافی ہے اور تین کا کھانا چار کو کافی ہے ۱؎ (مسلم۔بخاری)
شرح
۱؎ یعنی اگر کھانا تھوڑا ہو کھانے والے زیادہ تو انہیں چاہیے کہ دو آدمیوں کے کھانے پر تین آدمی اور تین آدمیوں کے کھانے پر چار آدمی گزارہ کرلیں اگرچہ پیٹ تو نہ بھرے گا مگر اتنا کھالینے سے ضعف نہ ہوگا، عبادات بخوبی ادا ہوسکیں گی۔اس فرمان عالی میں قناعت مروت کی اعلیٰ تعلیم ہے۔ایک حدیث میں ہے کہ دنیا میں بہت سیر ہوکر کھانے والا آخرت میں زیادہ بھوکا ہوگا،جب کھانے میں کمی ہو تو چاہیے کہ امیر لوگ تھوڑا کھائیں تھوڑا بچائیں ،بچا ہوا ان غرباء و مساکین پر خرچ کریں جن کے پاس کھانانہیں۔(مرقات)