۱؎ اطیب کے دو معنی ہوسکتے ہیں: خوشبو تیار کرتی تھی یا خوشبو لگاتی تھی۔حضور سرکار صلی اللہ علیہ و سلم کو خوشبو بہت ہی پسند تھی اس لیے ازواج مطہرات خصوصًا ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضور انور کے لیے خوشبو تیار کیا کرتی تھیں حتی کہ احرام کھولتے وقت بھی خوشبو تیار کی گئی تھی۔
۲؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم سر مبارک اور ڈاڑھی شریف میں خوشبو لگاتے تھے اور وہ خوشبو اس قدر زیادہ ہوتی تھی کہ بالوں میں اس کی چمک دیکھی جاتی تھی،یہ چمک خوشبو کا رنگ نہ تھا چمک تھی،چمک تو پانی کی بھی محسوس ہوجاتی ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ مردوں کی خوشبو بغیر رنگ والی چاہیے کہ وہاں رنگ سے مراد زینت والا رنگ ہے اس کی ممانعت ہے۔