Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
268 - 975
حدیث نمبر 268
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان کاموں میں جس میں خاص حکم نہ دیا گیا ہو اہلِ کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے ۱؎  اور اہل کتاب اپنے بالوں کو کھلے رکھتے تھے۲؎  اور مشرکین اپنے سروں میں مانگ نکالتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی پیشانی کے بال کھلے چھوڑے ۳؎ پھر بعد میں مانگ نکالی۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ موافقت اور مشابہت میں بڑا فرق ہے کفار سے مشابہت بہرحال حرام ہے موافقت جائز ہے مگر جائز چیزوں میں۔مطلب یہ ہے کہ جن چیزوں سے حضور انور کو منع نہیں فرمایا گیا ان میں ایسے کام اختیار فرماتے تھے جو مشرکین کے مخالف ہوں اہلِ کتاب کے موافق۔

۲؎  یعنی سر کے بالوں میں مانگ نہ نکالتے تھے یوں ہی کھلے ہوئے چھوڑ دیتے تھے۔

۳؎  پیشانی سے مراد سر ہے،بعض روایات میں راسہ ہے یعنی حضور انور نے مانگ نہ نکالی بلکہ بال شریف کھلے رکھے۔

۴؎  کیونکہ جبریل امین نے حضور انور سے یہ ہی عرض کیا کہ مانگ نکالا کریں،چنانچہ اب مسلمانوں کو یہ ہی سنت ہے۔
Flag Counter