Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
267 - 975
حدیث نمبر 267
روایت ہے حضرت جابر سے کہ فرماتے ہیں کہ ابو قحافہ فتح مکہ کے دن لائے گئے ۱؎  حالانکہ ان کا سر اور داڑھی سفیدی میں ثغامہ کی طرح تھی۲؎  تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اسے کسی چیز سے بدل دو اورسیاہی سے بچو ۳؎(مسلم)
شرح
۱؎ ابو قحافہ کا نام عثمان ابن عامر ہے،قرشی ہیں،فتح مکہ کے دن اسلام لائے اور خلافت فاروقی تک زندہ رہے، ننانوے سال عمر پائی،     ۱۴ھ؁  چودہ میں وفات ہوئی،حضرت ابوبکر صدیق کے والد ہیں،آپ سے کچھ احادیث حضرت ابوبکر صدیق اور اسماء بنت ابوبکر نے روایت کیں۔(مرقات)جب آپ کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت اقدس میں لایا گیا تاکہ ایمان قبول کرلیں تو حضور انور نے فرمایا کہ تم لوگوں نے ابوقحافہ کو یہاں آنے کی تکلیف کیوں دی ہم خود ان کے پاس جاکر انہیں مسلمان کرتے۔(اشعہ)

۲؎ ثغامہ ایک گھاس کانام ہے جو بہت سفید ہوتی ہے برف کی طرح،فارسی میں اسے درمنہ سفید کہتے ہیں یعنی حضرت ابو قحافہ کے سر و ڈاڑھی کے بال ایسے سفید تھے جیسے ثغامہ گھاس،حضرت ابوبکر صدیق انہیں اٹھا کر حضور کی خدمت میں لائے تھے۔(مرقات)

۳؎  یعنی ان سر اور ڈاڑھی میں سیاہی کے سواء کسی رنگ کا خضاب کردو چنانچہ مہندی سے سرخ خضاب کردیا گیا۔حق یہ ہے کہ سیاہ خضاب مرد عورت دونوں کے لیے ممنوع ہے۔حضرت عثمان غنی و امام حسن و حسین نے سیاہ خضاب لگایاہے مگر زینت کے لیے نہیں بلکہ غزوات میں کفار پر رعب طاری کرنے کے لیے کہ وہ لوگ آپ کو بوڑھا نہ سمجھ سکیں اور آپ پر دلیر نہ ہوجائیں،اب بھی بحالت جہاد غازی کو سیاہ خضاب درست ہے۔(مرقات)حضور انور نے داڑھی شریف میں کبھی خضاب نہ کیا،حضور کے بال خضاب کی حد تک سفید نہ ہوئے صرف چند بال شریف سفیدتھے،چند بار سر شریف میں مہندی لگائی تھی درد سر کی وجہ سے۔(مرقات) حضرت ابوبکر صدیق نے مہندی اور وسمہ کا خضاب کیا ہے مگر وسمہ اتنا ہوتا تھا جس سے سیاہ رنگت نہ ہوتی تھی بلکہ پختہ سرخ رنگ ہوتا تھا،اسی طرح اور صحابہ سے بھی خضاب منقول ہے۔(اشعہ)
Flag Counter