Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
269 - 975
حدیث نمبر 269
روایت ہے نافع سے وہ حضرت ابن عمر سے راوی فرماتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو سنا کہ آپ قزع سے منع فرماتے ہیں ۱؎ نافع سے کہا گیا کہ قزع کیا ہے فرمایا کہ بچے کے سر کا کچھ حصہ مونڈ دیا جاوے اور کچھ حصہ چھوڑ دیا جاوے۲؎(مسلم،بخاری) اور بعض محدثین نے اس تفسیر کو حدیث سے ملایا ہے۳؎
شرح
۱؎ قزع قاف کے فتحہ سے بمعنی بادل کے ٹکڑے،اب اصطلاح میں سر کا بعض حصہ منڈوانے یا کترانے اور بعض رکھانے کو قزع کہتے ہیں اسے بادل کے ٹکڑوں سے تشبیہ دیتے ہوئے،یہ ممانعت بچوں بڑوں سب کے لیے ہے۔مجبوری کے حالات اس سے علیٰحدہ ہیں جیسے کبھی سر سام میں بیمار کا تالو کھول دیا جاتا ہے یعنی صرف بیچ کھوپڑی کے بال مونڈدیئے جاتے ہیں ویسے بلاضرورت ممنوع ہے کہ کراہت تنزیہی ہے،انگریزی حجامت بھی قزع ہے۔

۲؎  بچوں کا ذکر اتفاقًا ہے کہ عرب میں بچوں ہی کی حجامت اس طرح کی جاتی ہے ورنہ یہ ممانعت چھوٹے بڑوں سب کے لیے ہے۔

۳؎  یعنی اس روایت میں اسطرح مروی ہے کہ خود حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ہی یہ تفسیر ارشاد فرمائی۔
Flag Counter