۱؎ قزع قاف کے فتحہ سے بمعنی بادل کے ٹکڑے،اب اصطلاح میں سر کا بعض حصہ منڈوانے یا کترانے اور بعض رکھانے کو قزع کہتے ہیں اسے بادل کے ٹکڑوں سے تشبیہ دیتے ہوئے،یہ ممانعت بچوں بڑوں سب کے لیے ہے۔مجبوری کے حالات اس سے علیٰحدہ ہیں جیسے کبھی سر سام میں بیمار کا تالو کھول دیا جاتا ہے یعنی صرف بیچ کھوپڑی کے بال مونڈدیئے جاتے ہیں ویسے بلاضرورت ممنوع ہے کہ کراہت تنزیہی ہے،انگریزی حجامت بھی قزع ہے۔
۲؎ بچوں کا ذکر اتفاقًا ہے کہ عرب میں بچوں ہی کی حجامت اس طرح کی جاتی ہے ورنہ یہ ممانعت چھوٹے بڑوں سب کے لیے ہے۔
۳؎ یعنی اس روایت میں اسطرح مروی ہے کہ خود حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ہی یہ تفسیر ارشاد فرمائی۔