۱؎ یا وہاں ہی بیٹھ کر درست کرلے یا گھر تک دونوں پاؤں سے ننگے جاوے اور وہاں درست کرکے پھر پہنے۔مقصد یہ ہے کہ ضرورت پڑ جانے پر بھی ایک جوتا پہن کر نہ چلو چہ جائیکہ بلاضرورت اس کی عادت ڈال لینا یہ تو بہت ہی برا ہے۔
۲؎ عربی میں خف چمڑے کے موزے کو کہتے ہیں جس پر مسح ہوسکے اور جوراب سوتی اونی ریشمی موزے کو کہا جاتا ہے جو قابلِ مسح نہیں۔اہلِ عرب کبھی چمڑے کے موزے کو جوتے کی طرح استعمال کرتے ہیں،صرف ایک موزہ پہننا کہ دوسرا پاؤں کھلا رہے ممنوع ہے خواہ موزہ چمڑے کا ہو یا سوتی اونی۔
۳؎ کیونکہ داہنا ہاتھ افضل ہے اور کھانا اعلیٰ کام ہے تو اعلیٰ کام افضل ہاتھ سے کرنا بہتر ہے۔عرب میں مالدار سردار لوگ اظہار فخر کے لیے بائیں ہاتھ سے کھاتے تھے اور غرباء مساکین داہنے ہاتھ سے۔اسلام نے سب کے لیے داہنا ہاتھ معین فرمایا کہ اس سے کھایا پیا جاوے۔
۴؎ ایک کپڑے میں لپٹنا اس وقت ممنوع ہے جب کہ اس سے شرمگاہ کھل جاتی ہو اگر شرمگاہ ڈھکی رہے تو مضائقہ نہیں۔
۵؎ اس کی شرح پہلے گزرگئی کہ اس طرح کپڑا اپنے جسم پر لپیٹنا کہ ہاتھ بالکل بند جاویں بہ تکلف کھل سکیں یہ ممنوع ہے ورنہ ممنوع نہیں۔