Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
255 - 975
حدیث نمبر 255
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم میں سے کوئی ایک جوتا میں نہ چلے یا تو دونوں پاؤں ننگے کرے یا دونوں میں جوتے پہن لے ۱؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہ ممانعت کراہت تنزیہی کی ہے اسی حکم میں کرتہ اچکن وغیرہ کا پہننا ہے کہ کرتے اچکن کی ایک آستین پہن لینا دوسری یوں ہی لٹکتی رکھنا ممنوع ہے۔یہاں مرقاۃ میں اس حکم کی بہت سی حکمتیں بیان فرمائیں: ایک یہ ہے کہ یہ طریقہ شیطان کا ہے کہ وہ ایک جوتہ پہن کر چلتا ہے،نیز اس طرح چلنا کچھ دشواربھی ہوتا ہے خصوصًا جب کہ جوتی کچھ اونچی ہو اور جگہ ناہموار ہو،نیز یہ طریقہ شرفاء کا نہیں اور یہ کم عقلی کی علامت ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ کی روایت میں جو آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو میں نے ایک جوتا شریف میں چلتے دیکھا وہ یا تو اس حکم سے منسوخ ہے یا وہ عمل شریف گھر کے اندر کا ہے اور یہ حکم شریف یا باہر سڑک کا یا وہ حکم بیان جواز ے لیے ہے اور یہ حکم بیان استحباب کے لیے یا وہ اتفاقًا نادر تھا، یہ ممانعت ہمیشگی اور عادت ڈال لینے سے ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔اس کی پوری تحقیق کتب فقہ میں ملاحظہ فرمائیں۔
Flag Counter