روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے جوتہ شریف کے دو تسمے تھے جو دوتسموں سے بٹے ہوئے تھے ۱؎ (ترمذی)
شرح
۱؎ قبال اور شراک دونوں کے معنی ہیں تسمہ مگر شراک اکہرے تسمہ کو کہتے ہیں قبال بٹے ہوئے کو یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ایک جوتا شریف میں دو تسمہ ہوتے تھے ہر تسمہ بٹا ہوا،اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق و عمر فاروق کے نعلین پاک کا حال تھا ایک تسمہ کا جوتا سب سے پہلے حضرت عثمان غنی نے پہنا بیان جواز کے لیے اب مروجہ جوتوں میں تسموں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔اس زمانہ میں چپل کا رواج عام تھا وہ بھی تسمہ والی۔