۱؎ یہ حکم استحبابی ہے۔اس کے متعلق قاعدہ یہ ہے کہ اچھا و اعلیٰ کام داہنی طرف سے شروع کیا جاوے اور ادنی اورگھٹیا کام بائیں طرف سے،مسجد میں داخل ہو تو داہنا پاؤں پہلے داخل کرے بایاں پاؤں پیچھے ، جب نکلے تو اس کے برعکس کرےکہ بایاں پاؤں پہلے نکالے داہنا پاؤں پیچھے اور پاخانہ جاتے وقت بایاں پاؤں پاخانہ میں داخل کرے بعد میں داہنا مگر وہاں سے نکلتے وقت اس کے برعکس۔جوتے پہننا اعلیٰ کام ہے اور اتارنا ادنی کام لہذا یہ حکم دیا گیا۔اس سے معلوم ہوا کہ دونوں جوتے یکدم اوتارنا پہننا بھی سنت کے خلاف ہے،اولًا داہنے پاؤں میں پہنے پھر بائیں میں۔
۲؎ اسلام میں داہنا حصہ بائیں سے افضل ہے اس لیے یہ حکم دیا گیا حتی کہ وضو میں داہنے ہاتھ پاؤں پہلے دھو لیے جائیں بائیں بعد میں یہ ترتیب بہت جگہ ہے۔